Saturday, 7 April 2018

آئی پی ایل:کرکٹ،دولت اورشہرت کا سنگم 

IPL

کرکٹ کا سب سے بڑا ایونٹ آئی پی ایل یعنی انڈین پریمئر لیگ ایک بار پھر پورے آب و تاب اور چکا چوند کے ساتھ شروع ہوچکا ہے۔اس بار آئی پی ایل کا نیا سیزن یعنی آئی پی ایل سیزن الیون  ہے۔آئی پی ایل  کا سیزن الیون  پچھلے دس سیزن سے الگ اور دلچسپ ہے۔اس بار آئی پی ایل میں ٹیموں کا نیا رنگ روپ نظر آئے گا ۔ کیونکہ ٹیموں کی اوور ہاؤلنگ ہوئی ہے۔یعنی ٹیمیں  نئی مرتب ہوئی ہیں۔ آئی پی ایل کے ضابطے کے مطابق،فرنچائزی کودس سال   میں  کھلاڑیوں کوبرقراررکھنے اورنئے کھلاڑی  چُننے کا اختیار دیا گیا ہے۔ہر ٹیم میں نئے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔جلاوطنی کے بعد،چنئی  اور راجستھان کی ٹیمو ں کی ٹورنامنٹ میں واپسی ہوئی ہے۔ تو، پونے اور گجرات کی چھٹی ہوگئی ہے۔ اسی طرح اگر کھلاڑیوں کی بات کریں تو اس سیزن میں جہاں کئی نئے کھلاڑیوں کو موقع ملا ہے۔ تو وہیں کئی پرانے اور معروف کھلاڑیوں کے ہاتھ مایوسی لگی ہے۔ویسٹ انڈیز کے مایاناز سلامی بلے باز کرس گیل جیسے کھلاڑی پر فرنچائیزیز نے دلچسپی نہیں دکھائی۔ خیر وہ آخر میں اپنے قد سے بہت کم بولی میں کنگس الیون پنجاب کا حصہ بنے۔اسی طرح کئی اور بڑے اور معروف کھلاڑیوں کو بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔آئی پی ایل  میں فرنچائزیز نے نام کے ساتھ ساتھ نئے  اوربھرتے کھلاڑیوں پربھی بھروسہ جتایا۔اس ٹورنامنٹ  میں دنیا کا ہر کھلاڑی کھیلنا اور حصہ بننا چاہتا ہے۔ آئی پی ایل  میں  ٹورنامنٹ  میں  پیسوں کی  افراط و بہتات ہے،قسمت  راتوں  رات بدلتی ہے اور کم آمیزکرکٹربھی ،چمکتا ستارہ بن جاتا ہے  ۔لیکن یہ بھی  ایک حقیقت ہے کہ آئی پی ایل  سے ہندوستانی کرکٹ  کو بہت فائدہ ہوا ہے۔نئے ،جوجھارو اور محنتی کھلاڑیوں کی کھوج میں آئی پی ایل نے بہت بڑا رول ادا کیا ہے۔خود آئی پی ایل کے موجودہ چیئرمین راجیو شکلا کہتے ہیں کہ   اس لیگ کو لیکر مختلف سطحوں پر اگرچہ خدشات   ظاہر کیے  جاتے رہے ہوں  لیکن آئی پی ایل نے   ہندوستان  کی ساکھ بڑھانےاور  عالمی  کرکٹ میں بی سی سی آئی کا دبدبہ  بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔آئی پی ایل گزشتہ دس سال سے کامیابی سے چلا آرہا ہے  اور اس  سے خاص طور پر جونیئر کرکٹ نے بہت فائدہ اٹھایا ہے ۔یا یوں کہا جائے کہ فٹ بال کے بعدہندوستان نے آئی پی ایل کی شکل میں  سب سے بڑی کھیلوں کی لیگ پیدا کی ہے۔  اس  لیگ سے  کھلاڑیوں  کے علاوہ اور ملک کو بھی بڑا فائدہ ہو رہا ہے۔آج ٹیم انڈیا میں بھی کئی ایسے چہرے ہیں جو آئی پی ایل کی ہی دین ہیں۔یعنی آئی پی ایل نے ایسے گم نام کھلاڑیوں کو عزت و شہرت بخشی ہے۔ جو شاید آئی پی ایل کے بغیر ممکن نہیں تھی۔آئی پی ایل کی وجہ سے ہی ٹیم انڈیا اب دنیا کی دوسری مضبوط ٹیموں کی صفوں میں شامل ہوگئی ہے۔ موجودہ وقت میں ٹیم انڈیا کے پاس گیندبازی ۔ بلے بازی اور فیلڈنگ میں زبردست سدھار ہوا ہے۔اور ٹیم انڈیا میں بھی آسٹریلیا اور انگلینڈ کی طرح کرکٹ کے تمام فارمیٹ کے کھلاڑی موجود ہیں۔خیر یہ تو ہوئی  بات آئی پی ایل کے فوائد کی۔ لیکن اگر آئی پی ایل سیزن الیون کی بات کی جائے۔ تو اس بار کا آئی پی ایل ٹورنامنٹ   نئے جوش  ۔ کلیور اور نئے روپ رنگ کے ساتھ حاضر ہے۔ جہاں ہر ٹیم دوسری ٹیموں سے مضبوط اور بیس نظر آتی ہے۔ہر ٹیم کے پاس  بہترین  کھلاڑیوں  کی لمبی فہرست ہے۔ جس میں ہندوستان کے علاوہ دنیا کی نامی گرامی ٹیموں کے کھلاڑی شامل ہیں۔سب سے زیادہ کھلاڑی جنوبی افریقہ ۔ آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز سے ہیں۔ جہاں کے کھلاڑی کرکٹ کے شارٹ فارمیٹ میں ماہر مانے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ  بنگلہ دیش ۔افغانستان۔اور  نیپال  کے کھلاڑی بھی آئی پی ایل کا حصہ ہیں۔آئی پی ایل  ٹورنامنٹ اس سال 7 اپریل سےشروع ہوکر  27 مئی تک چلے گا۔لیگ کو فکسنگ سے پاک صاف رکھنے کے لئے بھی آئی پی ایل انتظامیہ نے کمر کس لی ہے۔انتظامیہ نے   بیٹنگ اور فکسنگ جیسے مسائل سے نمٹنے کے لئے سخت انتظامات کیے ہیں۔انتظامیہ کے مطابق آئی سی سی اور بی سی سی آئی کے انسداد  بدعنوانی  یونٹوں کو کھلاڑیوں کی نگرانی کے لئے رکھا گیا ہے۔ویسے بھی، بی سی سی آئی کے قوانین سخت ہیں اور اگر کوئی کھلاڑی قصوروارپایا جاتا ہے تو اسے سختی سے سزا دی جاتی رہی ہے۔ تو وہیں ۔آئی پی ایل 2018 سے آمدنی کا ماڈل بھی تبدیل کر دیا گیا ہے اور اس میں فرنچائزز کا خاص خیال رکھا گیا ہے جنہیں آمدنی کا حصہ ملے گا۔ابھی تک فرنچائزیز کو لائسنس فیس دینی ہوتی تھی لیکن اب آمدنی ماڈل اسٹاک  پرمبنی ہوگا اور فرنچائزیز کو بھی مرکزی آمدنی سے پیسہ ملے گا۔یعنی آئی پی ایل لیگ صرف کرکٹ کو بڑھاوا دینے کا ذریعہ نہیں ہے۔ بلکہ یہاں دولت ۔ شہرت ۔ عزت اور بے انتہا  تفریح کا سامان موجود ہے۔

Saturday, 24 March 2018


راجیہ سبھا انتخابات کےنتائج اورنیوانڈیا 

Rajya Sabha Results & Composition of Upper House 


لہروں پرسوارہوکر اقتدارتک پہنچا ضرورجاسکتا ہے لیکن منصوبوں کوروبہ عمل لانے کے لیے  یہ ناکافی ہےکیونکہ دو ایوانوں پرمشتمل  پارلیمنٹ میں  عددی طاقت فیصلہ کُن حیثیت رکھتی ہے۔جمہوری  نظام حکومت میں  عددی طاقت کھیل بنا اوربگاڑ سکتے ہیں ۔ایوان نمائندگان  کی طاقت،ایوان بالا میں منتقل ہوتی ہے لیکن اس عمل میں وقت لگتا ہے۔چھ برس ایوان بالا کے ارکان کی معیاد ہوتی ہے اورایوان نمائندگان اورارکان اسمبلی ہی انھیں چنتے ہیں۔دوہزارچودہ عام انتخابات میں  جس طرح ملک کا سیاسی منظرنامہ تبدیل ہوا،اس سے لوگوں کو نئی حکومت سے کسی خوشگوار اوربڑی  تبدیلی کی   امید تھی مگرکچھ نوٹ بندی اورجی ایس ٹی کے فیصلے  حکومت کے پاؤں کی زنجیربنے کچھ ایوان بالا میں اپوزیشن کی عددی طاقت نے مودی حکومت کی راہ میں روکاوٹیں  حائل کیں۔یہی وجہ ہے کہ    اڑتیس سالوں کے بعد  اب این ڈی اے   کی طاقت ایوان بالا میں بڑھی ہے لیکن وہ  ابھی بھی کثریت سے دورہے۔اب سوال یہ اٹھتا ہےکہ اس کا سہرا کس کے سر جانا چاہئے ۔  تو سچ یہ ہے کہ  مودی اور امت شاہ سے زیادہ  بی جے پی کی جیت کے پیچھے اپوزیشن کا کمزور اور  منتشر ہوناہے۔ جہاں راہل گاندھی  ۔نریندر مودی کے مقابلے میں ہر شعبے میں انیس نہیں بلکہ اٹھارا ہی  نظر آتے ہیں۔ تو وہیں سونیا گاندھی کے بعد  اپوزیشن میں کوئی ایسا چہرا نظر نہیں آتا ۔ جو  سیکولر پارٹیوں کو جوڑ کر رکھ سکے۔ بلکہ خود کئی موقعوں پر کانگریس لیڈرشپ نے بھی ایسے فیصلے لئے ۔ جس سے اپوزیشن اور خود کانگریس کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا ۔ یہی وجہ ہے کہ نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی دن بدن مضبوط اور طاقتور ہوتی جا رہی ہے۔ لوک سبھا میں تو بی جے پی مضبوط تھی ہی ۔اب راجیہ سبھا میں بھی بی جے پی  مضبوط ہوگئی ہے۔ حالیہ راجیہ سبھا انتخابات میں بی جے پی نے ملک کی مختلف ریاستوں کی ۵۹سیٹوں کے لئے ہوئے انتخابات میں ۲۸ سیٹوں پر جیت درج کی ہے۔ اس شاندار کامیابی کی بدولت بی جے پی اوراین ڈی اے کی حیثیت ایوان بالا میں  اہم ہوگئی ہے۔راجیہ سبھا میں کل سیٹیں ۲۴۵ ہیں ۔آئیے  ایک نظر ایوان بالا کی موجودہ بناوٹ اور دو بڑے دھڑوں این ڈی اے اوریوپی اے کے ارکان کی تعداد پر۔۔۔

این ڈی اے  National Democratic Alliance(بی جے پی  کی قیادت والااتحاد)۔۔تعداد۔۔87یو پی اے United Progressive Alliance(کانگریس کی قیادت والا اتحاد  )۔۔۔تعداد۔۔۔57دیگر( دیگر پارٹیاں  بایاں محاذ۔ٹی ایم سی۔بی جے ڈی۔اے آئی اے ڈی ایم کے ۔ڈی ڈی پی وغیرہ)۔۔۔تعداد۔۔100

اس کے علاوہ اب راجیہ سبھا میں بی جے پی اور کانگریس ارکان کی تعداد  کی بات کریں تو بھی بی جے پی ۔ کانگریس سے اب مضبوط ہوگئی ہے۔آیئے ایک نظر ڈالتے ہیں
راجیہ سبھا میں  بی جے پی اورکانگریس کے ارکان کی

بی جے پی ۔۔۔58 ۔ارکان
کانگریس ۔۔۔54۔ارکان


یعنی ۔ اب ایوان بالا کی تصویر بدل رہی ہے اوررواں برس کے اختتام تک اس میں مزید نمایاں تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں ۔ وہ ایوان جہاں کبھی کانگریس کا بول بالا  اور دبدبہ تھا۔ اب  بھگوا پرچم  لہراتا نظرآرہا ہے  اوراین ڈی اے کی مشکلیں بھی کچھ کم ہوتی معلوم ہورہی ہیں کیونکہ ایوان نمائندگان میں تین سوسے زائد ارکان ہونے کے باوجود ایوان بالا میں این ڈی اے کوکافی دقتوں اوردشواریوں کا سامنا سخت اپوزیشن کی وجہ سے کرنا پڑ رہا ہے۔کئی اہم بل لٹکے ہیں جس کی عمدہ مثال تین طلاق بل ہے۔این ڈی اے  ابھی اکثریت  یعنی ایک سو تیئیس سیٹوں سے دور ہے  اورشائد وہ  اس  مطلوبہ عددکے نزدیک پہنچ بھی جائے ۔ایسے میں ایسی جماعتیں جنھوں نے ابھی تک اس سے دوری بنائے رکھی ہے ان کے ساتھ کی ضرورت اسے محسوس ہوگی۔۔

Sunday, 18 February 2018

یوگی کا مشن انکاؤنٹر

ENCOUNTER STRIKE BY YOGI GOVT IN UP

کہتے ہیں کہ دہلی کا راستہ اترپردیش سے ہوکر گذرتا ہے۔ یعنی دہلی پر راج کرنے کے لئے اترپردیش میں قدم جمانا ضروری ہے۔اس کی کئی وجوہات بھی ہیں ۔ ریاست اترپردیش آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے۔یہاں لوک سبھا کی سب سے زیادہ سیٹیں بھی ہیں۔ اس کے علاوہ یوپی اپنے کلچر اور تہذیب و ثقافت کی وجہ سے بھی لوگوں کو اپنی جانب راغب کرتا ہے۔ملک میں کچھ بھی ہو۔ اس کا سب سے پہلے اثر اترپردیش پر ہی ہوتا ہے۔ ملک کے سیاسی تانے بانے اور سیاسی اتھل پتھل کا بھی یوپی پر سیدھا اثر پڑتا ہے۔ ملک کی سب سے بڑی ریاست ہونے کی وجہ سے یہاں سیاسی گہما گہمی سب سے زیادہ رہتی ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ ملک کو سب سے زیادہ وزیر اعظم اترپردیش نے ہی دیئے ہیں۔ نہرو خاندان کا تعلق بھی اسی ریاست سے  رہا ہے۔ اس لئے ریاست پر کانگریس کا کافی دبدبہ رہا ہے۔ لیکن بدلتے حالات اور سیاسی اتھل پتھل کے  دوران  یوپی کا منظر نامہ بدلا۔ اور دھیرے دھیرے ریاست سے کانگریس کا صفایا ہوتا گیا۔ ریاست میں نئی نئی پارٹیاں  وجود میں آئیں ۔  سماج وادی پارٹی  اور   بہوجن سماج پارٹی نے ریاست پر حکمرانی کی ۔ پچھلے ایک سال سے ریاست میں  بی جے پی  اپنے طور پر اقتدار میں ہے۔ اترپردیش میں بی جے پی کی حکومت کی قیادت  یوگی آدتیہ ناتھ کر رہے ہیں۔ یوگی کئی بار ممبر پارلیمنٹ بھی رہ چکے ہیں۔ یوگی کی شبیہ مسلم مخالف رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ریاست کی  پوری تصویر ہی بدل گئی ہے۔ اس ایک سال میں جہاں یوگی نے ایک کے بعد ایک نئے نئے قانون و ضوابط بنائے ۔ تو وہیں مسلم سماج کے لئے بھی یوگی نے کئی  احکامات صادر کئے۔ چاہے مدارس میں قومی ترانے کی ویڈیو  گرافی ہو یا پھر مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے  کامعاملہ    ہو۔۔یعنی ایک کے بعد ایک یوگی حکومت نے  مسلم مخالف فیصلے لینے شروع کئے ۔لیکن بات یہیں تک نہیں رکی ۔ ریاست میں بڑھ رہے کرائم  اور غنڈہ گردی پر قابو پانے کے لئے یوگی انتظامیہ نے انکاؤنٹر کا سہارا لیا۔ اس انکاؤنٹر کی آڑ میں جہاں نام نہاد  بد معاش اور غنڈے جان  سے مارے گئے تو وہیں کئی معصوموں  کو بھی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔لیکن دن بدن ریاست میں ان انکاؤنٹروں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔ خاص طور پر ریاست کے مغربی خطے میں جہاں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ ان علاقوں میں انکاؤنٹر کی آئے دن خبر آنے لگی ۔ ان انکاؤنٹرز کا شکار ایسے مسلم ہونے لگے  جو ماضی میں اپنے علاقوں میں چھوٹی موٹی  وارداتوں میں شامل  رہے ہوں ۔ پولیس انتظامیہ نے چھوٹے چھوٹے بدمعاشوں کو بھی نہیں بخشا۔ ان انکاؤنٹرز کی تعداد محض ایک سال میں بارہ سو سےتجاوز کر گئی ۔ اس تعداد سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت غنڈہ گردی ختم کرنے کے نام پر کس طرح انکاؤنٹر کا  استعمال کر رہی ہے۔ خود ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے علی الاعلان کہا کہ یہ انکاؤنٹر بند نہیں ہوں گے۔ جب تک ریاست سے پوری طرح غنڈہ گردی کا صفایا نہیں ہوجاتا۔ ۔خیر۔ ان انکاؤنٹر پر حقوق انسانی تنظیموں نے بھی تشویش ظاہر کی ۔ لیکن یوپی سرکار نے اس پر بھی کان نہ دھرے ۔ ایک رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ان انکاؤنٹر وں میں خاص طور پر مسلمان اور دلت ۔ پچھڑے سماج کے لوگ سب سے زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ صرف پچھلے نو ماہ کے اندر ریاست میں ایک ہزار سے زیادہ انکاؤنٹر ہوئے ہیں۔ذرائع کے  مطابق ان میں اب تک 38 جرائم پیشہ افراد مارے جا چکے ہیں۔ تقریباً تین سو زخمی ہوئے اور دو ہزار سے زیادہ مجرموں کو گرفتار کیا گیا ہے۔اپوزیشن پارٹیوں نے بھی ان انکاؤنٹروں کے خلاف پر زور آواز اٹھائی ہے۔ سماج وادی پارٹی نے ریاست کی راجدھانی لکھنؤ میں زبردست احتجاج کیا ۔  حقوق انسانی کی تنظیموں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیس انکاؤنٹر کا سلسلہ بند کرے کیونکہ ان انکاؤنٹروں میں بڑا جانی نقصان ہو رہا ہے۔جن میں کئی بے قصور افراد بھی شامل ہیں۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ امن و قانون کا نظام قائم کرنے کے لیے انتظامی سختی ضروری ہے لیکن اس کے لیے ضروری نہیں کہ ہر چھوٹے بڑے جرائم پیشہ شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جائے۔اس طرح کے طریقہ کار پر ہمیشہ نکتہ چینی ہوئی ہے اور مستقبل میں بھی ہوتی رہے گی۔ انکاؤنٹر صرف مخصوص حالات میں کسی کیس کا آخری حل ہو سکتا ہے۔اس کے لیے جو ضابطے طے کیے گئے ہیں ان کے مطابق انکاؤنٹر میں ہر ہلاکت کو قتل کے طور پر درج کیا جاتا ہے اور اس کی تفتیش مجسٹریٹ کی سطح پر ہوتی ہے تاکہ کوئی نا انصافی نہ ہو سکے۔یعنی سوال ریاست کے انتظامیہ ۔ یہاں کی پولیس اور لا اینڈ آرڈر پر بھی اٹھتا ہے ۔جمہوری ملکوں میں  طاقت کے استعمال  کا اختیار صرف ریاست کو دیا گیا ہے اور ریاست سے کوئی زیادتی نہ سرزد ہونے پائے اس لیے ان اختیارات کو بھی کئی طرح کے ضابطوں کے تحت رکھا گیا ہے۔کسی کی زندگی لینے کا اختیار ریاست کو انتہائی شاذ ونادر حالات میں دیا گیا ہے۔ اتر پردیش میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف مہم قابل ستائش ہے لیکن پوری ریاست میں موت اور انکاؤنٹر کی دہشت پیدا کرنا ۔ بندوق کی نوک پر بدعنوانی اور غنڈہ عناصر کو ختم کرنے کی کوشش  مثالی  انتظامی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔حقوق انسانی کے قومی کمیشن نے ریاستی حکومت کو کم ازکم 20 انکاؤنٹرز کے  معاملوں میں نوٹس بھیجا ہے اور وضاحت طلب کی ہے۔جرائم پر قابو پانے کے لیے ایک برس کی مدت میں 38 افراد کو ہلاک کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاست میں پولیس کا نظام انتشار اور بدنظمی کی گرفت میں ہے۔ریاستی حکومت کو یہ بات بھی ذہن نشیں کر لینی چاہیے کہ ریاست میں جرائم پر قابو پانا اس لیے بھی مشکل رہا ہے کیونکہ جرائم پیشہ عناصر کو ہر دور میں سیاسی پشت پناہی حاصل رہی ہے۔ اگر سیاسی رہنما اپنی روش کو چھوڑ کر سیدھے راستے پر چل پڑیں اور انتظامیہ اور پولیس کا صحیح استعمال کیا جائے تو ریاست کا نظم و ضبط بھی پٹری پر لوٹ آئے گا اور جو مسائل ہیں وہ خود بخود حل ہوجائیں گے۔ اور سیاسی لیڈروں  کو ریاست کے مسائل کو سیاسی چشمے سے نہیں دیکھنا چاہئے۔ اور آج وقت کی ضرورت کہ تشدد اور برائی کو محبت سے ختم کیا جائےنہ کہ بندوق  کے زور  پر۔ کاش یوگی جی نے وزیر اعظم مودی کی لال قلعہ کی فصیل سے دی ہوئی تقریر سنی ہوتی۔

Saturday, 17 February 2018

ونڈے کرکٹ کا وراٹ

Virat Kohli :'Greatest Ever ODI player'

کہتے ہیں کہ ہر کسی کا ایک دور ہوتا ہے۔ اور آج کی کرکٹ کا دور ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی کا ہے۔کوہلی اس وقت  ونڈے کرکٹ کے افق پرپورے آب وتاب سے جگمگا رہے ہیں۔جنوبی افریقہ میں ان کا شاندار مظاہرہ اس کی تازہ مثال ہے۔جہاں وراٹ نے افریقہ کے تیز گیندبازوں کی دھجیاں اڑا دیں۔ یہی نہیں وراٹ نے کپتانی کا حق ادا کرتے ہوئےجہاں سیریز میں سب سے زیادہ رن بنائے تو وہیں کئی ریکارڈ اپنے نام  بھی کئے۔یعنی کوہلی نے جنوبی افریقہ میں ون ڈے سیریز جیتنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔چھ میچز کی سیریز میں ان کے اعداد و شمار اس کے شاہد ہیں۔ انھوں چھ میچز میں 186 کی اوسط سے 558 رن بنائے ،اُن میں تین سنچریاں بھی شامل ہیں۔بلے بازی  میں کوہلی کا غلبہ اتنا تھا کہ ان میں  اوردوسرے نمبر پر سب سے زیادہ رنز بنانے والے شیکھر دھون میں 235 رنکا بڑا فرق ہے۔ یہاں یہ بالکل عیاں ہے کہ وراٹ کوہلی نے جو کارکردگی افریقہ میں  ونڈے سیریز میں پیش کی ہے۔ اس نے کوہلی کے ناقدین کے منہ بند کر دیئے ہیں۔ یا یوں کہا جائے کہ کوہلی کے ناقد بھی اب کوہلی کی تعریف کرتے نہیں تھک رہے ہیں۔دراصل جو کارنامہ کوہلی نے افریقہ کی سرزمین پر انجام دیا ہے ۔ وہ اپنے آپ میں تاریخی ہے۔کیوں کہ   اس سے قبل کبھی بھی ٹیم انڈیا ، جنوبی افریقہ میں ونڈے سیریز نہیں جیت پائی تھی ۔ یعنی ٹسٹ سیریز میں شکست کے بعد ونڈے  میں ٹیم انڈیا پر خطرہ منڈلا رہا تھا۔ ۔ لیکن ونڈے سیریز میں کوہلی کی کارکردگی دیکھ کر ایسا محسوس ہوا کہ کوہلی نے پوری سیریز کا ذمہ اپنے سر لے لیا تھا ۔اور انہوں نے  گویا تاریخ کے رخ کو موڑنے کا  عزم کر رکھا تھا۔۔خیر۔ اس شاندار کارکردگی اور تاریخی جیت کے بعد جہاں ٹیم انڈیا میں کوہلی کے قد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ تو وہیں اب ٹیم انڈیا عالمی کپ کی سب سے بڑی دعویدار بن کر ابھری ہے۔۔وراٹ کوہلی کی اس لاجواب کارکردگی کے بعدکرکٹ جانکار  یہ بھی کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ ماسٹر بلاسٹر سچن تینڈولکر کا سنچریوں کا ریکارڈ بھی اب محفوظ نہیں لگتا ۔ ۔ویسے دو الگ ادوار میں دو الگ الگ کھلاڑیوں کا موازانہ معقول نہیں معلوم ہوتا لیکن شائقین و ناقدین دونوں  جانے اور انجانے میں اس کے مرتکب ہوہی جاتے ہیں۔ویسے سچن اوروراٹ میں ایک بات جو مشترک ہے وہ یہ دونوں اپنے اپنے دور کے مایہ ناز بلے باز ہیں۔یہاں اگر میچوں کے حساب سے سچن اور کوہلی کا موازنہ کیا جائے تو بھی کوہلی، سچن سے وراٹ نظر آتے ہیں

  وراٹ کوہلی۔۔208 میچ۔۔35سنچری۔۔۔رن ۔9588۔۔۔اوسط۔۔58.10


سچن تینڈولکر۔۔463 میچ۔۔49سنچری۔۔۔رن ۔18426۔۔۔اوسط۔۔

44.83اس ٹیبل پر نظر دوڑائیں تو دونوں بلے بازوں میں فرق صاف نظر آ رہا ہے۔وراٹ کوہلی کا اوسط ،سچن سے کہیں بہترہے۔ اگر کوہلی ،سچن کے جتنے ونڈے میچز کھیلتے ہیں اور اسی کنسِسٹنسی سے بلے بازی کرتے رہے،تو بعید نہیں وہ سچن تنڈولکرکی سنچریوں کی چوٹی کوعبورکرلیں۔سچن کے مجموعی  اٹھارہ  ہزار رنوں کے پہاڑ کوسرکرنا  وقت طلب  ضرورہے لیکن  ناقابل تسخیر نہیں ۔۔۔۔ٹیم انڈیا کی خوش نصیبی ہے کہ اسے اعلی کرکٹروں کی خدمات حاصل ہورہی ہیں۔ایسے کرکٹر جو  اپنے کارناموں سے نہ صرف اپنے عہد کومتاثر کرتے ہیں بلکہ آنے والی نسلیں بھی اُن کواحترام کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔وراٹ آج اسی مقام پرہیں۔