Saturday, 9 January 2016

Yearender_2015

You can watch a special yearender bulletin.Please click on this link

 https://www.youtube.com/watch?v=y4SO8AWnCls


Aamir Khan brand ambassador incredible India row

 عامر کو عدم رواداری پر بولنا مہنگا پڑا؟


عامر خان۔بالی ووڈ کا ایسا نام ۔جو ہمیشہ اپنے کام اور کام کے تعلق سے اپنے ڈیڈی کیشن کے لئے جانے جاتے ہیں۔عامر کی فلموں کا لوگوں کو بے صبری سے انتظار رہتا ہے۔فلم اور فلم سے پرے ۔عامر کی  ہر بات اور ہر سرگرمی پر میڈیا کی نظر ہوتی ہے۔مسٹر پرفکشنسٹ  کی بات ہی نرالی ہے۔عامر ۔ان چند اداکاروں میں ہیں۔جن کی ہر بات لوگ بڑے دھیان سے سنتے ہیں۔اور عامر سماجی اور قومی سروکاروں سے جڑی باتوں پر اپنے خیالات کا بر ملا اظہار بھی کرتے رہے ہیں۔وہ چاہے۔نرمدا بچاؤ تحریک ہو یا دیگر معاملے۔عامر خان اپنے خیالات کااظہار کرنے سے کبھی ہچکچائے نہیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ملک میں  عدم رواداری کو لیکر جو بحث چھڑی تھی۔ اس کڑی میں   عامر خان  کا نام بھی جڑ گیا تھا۔عامر خان نے ملک میں بڑھ رہے عدم رواداری کے معاملے پر اپنی رائے دی تھی۔جس کے بعد عامر خان کی چہار جانب سے مذمت کی گئی تھی۔خیر۔عامر خان ۔ملک میں کئی سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے سفیر ہیں۔کل اچانک مرکزی حکومت کی ٹوریزم منسٹری سے عامر کی سفیر کے عہدے سے چھٹی کی خبر آئی۔کہ اداکارعامر خان کو انکریڈیبل انڈیا  سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا ہے ۔عامر خان نے اس فیصلے کا  خیر مقدم کیا ہے۔ عامر نے کہا ہے کہ وہ حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقد م کرتے ہیں اور ان کے لئے دس سال تک انکریڈیبل انڈیا کےلئے کام کرنا فخر کی بات تھی۔عامر خان نے کہا کہ میں  انڈیا انکریڈیبل کا سفیر رہوں یا نہ رہوں۔انڈیا انکریڈیبل  ہی رہے گا۔آپ کو بتاتے چلیں کہ  عامر خان  نے ایک میڈیا گروپ  کے ایوارڈ فنکشن میں   کہا  تھا کہ اپنے بچوں کو لیکر پہلی بار ملک میں انہیں ڈر لگ رہا ہے۔عامر خان کے اس بیان نے سیاسی  گلیاروں میں  بھونچال لادیا تھا۔سیاسی لیڈران سے لیکر بالی ووڈ تک عامر کے بیان پر دو خیموں میں بٹ گئے تھے۔سوال عامر کے ہٹانے کا نہیں ہے یا ان سے معاہدہ توڑنے کا نہیں ہے۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ عامر کو کیا عدم رواداری پر بولنا مہنگا پڑا؟


 Note

You can watch a debate on this issue.Please click on this link
 https://www.youtube.com/watch?v=AVprrCd-mI8

 Urdu in Tamilnadu اردو کے ساتھ سوتیلا برتاؤ؟

big_intro
ملک میں اردو کے ساتھ اکثرو بیشتر ناروا سلوک کی خبریں آتی رہتی ہیں۔کبھی کسی ریاست میں اردو کے  پرچے کو دوسری زبان میں لکھنے کا معاملہ سامنے  آتاہے۔تو کبھی اردو کا پیپر کسی دوسری زبان میں ہی دینا پڑتا ہے۔کچھ ایسا ہی فیصلہ سنایا ہے۔تمل ناڈوحکومت نے ۔تمل ناڈوحکومت نے اردو مخالف فیصلہ سناتے ہوئے ۔ریاست میں اردو میڈیم کے طلبا کوتمل زبان میں اپنے جوابات لکھنے کا اعلان کیا ہے۔ خاص طورپردسویں جماعت کے اردو میڈیم  کے طلباکومجبورا تمل زبان میں امتحان دینا ہوگا۔ ریاست کے محکمہ تعلیم نے یہ فیصلہ سنایاہے۔ اسطرح تمل ناڈو میں دسویں جماعت کے تقریبا10ہزار طلبا آنےوالے دنوں میں تمل میں اپنے امتحانات کے جوابات لکھیں گے۔وانمباڑی اور دیگر شہروں کی اردو تنظیمو ں کے احتجاج کے باوجود محکمہ تعلیم  نے اردو مخالف فیصلہ سنایاہے۔ اس معاملے میں اردو تنظیموں نے دوبارہ عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ تمل ناڈو کے ہائی کورٹ   نےاردو میڈیم کے مسئلہ کے سلسلے میں فیصلہ لینے کی ذمہ داری محکمہ تعلیم کو سنوپی تھی۔افسوس کی بات یہ ہے  کہ اردو کو لیکر حکومتوں  کا جو رویہ ہے۔اس پر اپنی بات اٹھانے کے لئے بھی اردو والوں کے پاس  کوئی پلیٹ فارم  یا فورم نہیں ہے۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ ملک کے آئین میں اقلیتوں کو جو حقوق دئے گئے ہیں۔کیا یہ اسکی ان دیکھی نہیں ہے؟سوال  یہ بھی اٹھتا ہے کہ آخر رائٹ ٹو ایجوکیشن  کہا گیا؟تمل ناڈو حکومت  کا یہ فیصلہ ۔اردو کے لئے کتنا منفی ہے؟ایک طرف سرکاریں ملک میں اردو کو بڑھاوا دینے کی باتیں کرتیں ہے۔تو دوسری طرف اردو کے ساتھ سوتیلا برتاؤ۔آخر۔اردو کے ساتھ یہ دوہرا معیار کیوں اپنایا جاتا ہے؟

Note

You can watch a debate on this issue.Please click on this link

https://www.youtube.com/watch?v=OKScjAk6OwI

                              سعودی عرب۔ ایران کشیدگی             Saudi Iran row   


NOTE
You can watch big bulletin on this issue.Please click on this link

https://www.youtube.com/watch?v=5MMAC0-cEz4

Monday, 4 January 2016

 PATHANKOT ATTACK

نئے سال کا آغاز بڑا ہی مایوس کن رہا۔پنجاب کے پٹھان کوٹ میں دہشت گردانہ حملے نے جہاں ہند پاک کے بڑھتے رشتوں پر بریک لگانے کا کام کیا ۔تو وہیں ملک کے سیکورٹی نظام پر بھی کئی طرح کے سوال کھڑے ہوئے۔وزارت داخلہ کے مطابق  ۔خفیہ محکمے کواس حملے کی اطلاع  چوبیس گھنٹے  پہلے ہی ہوچکی تھی۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ پھر۔ان دہشت گردوں پر قابو کیوں نہیں پایا جا سکا۔این ایس جی کے کمانڈوز کو  ایک دن پہلے ہی پٹھان کوٹ روانہ کیا گیا تھا۔تو اس ٹیم نے وہاں کس طرح چوکسی برتی۔کہ اتنا بڑا حملہ ہوگیا؟خیر۔یہ حملہ۔ملک پر چھبیس گیارہ کے بعد سب سے بڑا دہشت گردانہ حملہ ہے۔اور اس حملے کے تار بھی پاکستان سے ہی جڑے ہوئے ہیں۔اس حملے  کی ٹائمنگ پر بھی سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔کہ ایک طرف وزیر اعظم مودی  اچانک پاکستان پہنچ جاتے ہیں۔تو دوسری طرف اس طرح کا بڑا دہشت گردانہ حملہ۔یعنی کہا جا سکتا ہے کہ  پنجاب کے پٹھان کوٹ میں دہشت گردانہ حملہ۔پاکستان نےایک بار پھر ہندوستان کی امیدوں کو توڑا ہے۔ایسے  میں جب پاکستان  بار بار اپنے ناپاک عزائم ظاہر  کرتا ہے۔تو کیا پڑوسی ملک سے بات چیت کا احیا جائز ہے؟افسوس اس وقت ہوتا ہے جب کہا جاتا ہے کہ  صرف ایک حملے کے بعد پاکستان سے بات چیت رد نہیں کی جاسکتی۔اب  سوال یہ اٹھتا ہے کہ پٹھان کوٹ میں شہید ہوئے بہادر جوانوں کی قربانیوں کی ذمہ داری کون لے گا؟میں خوش ہوں کہ پٹھان کوٹ میں ہمارے بہادر جوانوں نے دشمنوں کا منھ توڑ جواب دیا ہے۔۔۔۔لیکن مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ ایک کے بدلے دس سر لانے کا دم بھرنے والی سرکار کے وزیر اعظم ۔جب  دو دن پہلےکرناٹک کے ایک پروگرام میں بولتے ہیں۔تو محض جملے بازی ہی کرتے ہیں۔وزیر اعظم صاحب اقتدار میں آنے سے پہلے آپ نے  ہی کہا تھا کہ اسامہ کا پاکستان کی سر زمین  پر مارا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان  دہشت گردوں کا بہت بڑا اڈڈا بنا ہوا ہے۔ ہندوستان سرکار کو اس معاملے کو بہت جلد علم میں لیکر ۔بین الاقوامی طاقتوں سے اتحاد کر امریکہ پر بھی دباؤ بنانا چاہئے۔مودی جی ۔اب تو آپ ۔ اوبامہ اور نواز کے اچھے دوست ہیں ۔آخر کیوں ۔اس طرح کے حملوں کے بعد خاموش ہیں؟


Saturday, 2 January 2016

       Jamia & JNU students oppose PM Modi & Baba Ramdev

سیاست اب پاٹھ شالہ تک پہنچ گئی ہے۔جی ہاں۔ہم بات کر رہے ہیں ۔دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کی۔دراصل ان دونوں اداروں میں  وزیر اعظم مودی اور بابا رام دیو کو پروگرام میں شرکت کرنی تھی۔جیسے ہی یہ خبر عام ہوئی۔ان دونوں اداروں میں ہلچل سی مچ گئی۔ان دونوں شخصیتوں کو لیکر احتجاج اور مخالفت کا سلسلہ شروع ہوا۔موجودہ طلبا سے لیکر فارغ طلبا اور اولڈ بائز نے کیمپس میں دونوں لیڈران کے آنے کی پر زور مخالفت کی۔نتیجا۔  جواہر لال نہرو یونیورسٹی  میں بابا رام دیو کا پروگرام  رد ہوگیا ۔بابا رام دیو بائسویں  ویں انٹرنیشنل کانگریس آف ویدانتا میں حصہ لینے آنے والے تھے۔لیکن طلبا کی مخالفت کے چلتے پروگرام رد ہوگیا۔ادھراس معاملے میں بابا رام دیو نے  ٹویٹ کر کے کہا کہ  ۔میں نے یا میرے دفتر نے جے این یو میں کسی لیکچر یا پروگرام کے لئے حامی نہیں بھری ہے. اگر وقت ہوتا تو میں ضرور آپ کے نظریاتی مخالفین سے بھی بحث کے لئے جاتا۔ادھر۔بابا رام دیو کے بعد اب وزیر اعظم نریندر مودی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کنووکیشن میں مہمان خصوصی نہیں ہوں گے۔ وزیر اعظم دفترنے جامعہ کو اپنے خط میں مصروفیت کاحوالہ دے کر انیس جنوری کو ہونے والے کنووکیشن میں وزیراعظم کی شرکت سے انکار کردیا ہے ۔ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ  دراصل جامعہ ملیہ اسلامیہ انتظامیہ کی جانب سے وزیراعظم کو مدعو کئے جانے پر کافی تنازعہ شروع ہوگیاتھا اور وزیراعظم نریندر مودی کے ماضی میں جامعہ کو دہشت گردی سے جوڑنے کے موضوع پر مخالفت شروع ہورہی تھی تاہم جامعہ انتظامیہ نے صاف کیا ہے کہ وہ مستقبل میں وزیراعظم نریندر مودی کو کیمپس میں بلائے گی ۔ایک طرف جہاں وزیر اعظم کے نہ آنے سے ایک خیمہ خوشی منا  رہا ہے۔تو  دوسری طرف وزیراعظم نریندر مود ی کے یونیورسٹی نہ آنے  کے فیصلہ پرطلباءنے مایوسی کااظہار کیا  ہے۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں اس طرح کی سیاست آخر کیوں؟وزیر اعظم کا دورہ  نا ہونا کیا ۔مایوسی کی بات نہیں ہے؟

Note

You can watch debate on is issue,please click on this link
https://www.youtube.com/watch?v=i_T5e_nbY34

 

                                  YEARENDER_2015
سال دو ہزار پندرہ رخصت ہو رہا ہے۔یہ سال ہمارے درمیان بہت سی یادیں چھوڑ جا رہا ہے۔دو ہزار پندرہ میں کئی ایسے واقعات ۔ رونما ہوئے  ۔جنہیں آسانی سے بھلایا نہیں جا سکے گا۔اسی طرح سیاسی پیش رفت کی بات کریں ۔تو سال دو ہزار پندرہ مرکز میں زیر اقتدار بی جے پی کے لئے نہایت ہی مایوس کن رہا۔دہلی ۔اور بہار میں بی جے پی کو کراری  شکست کا  سامنا کرنا پڑا۔تو دوسری جانب ۔عدم رواداری کے جن نے بھی مرکزی حکومت کی مشکلات میں اضافہ کردیا۔عدم رواداری کو لیکر  پورا ملک ایک طرح سے دو حصوں میں بٹ سا گیا۔دانشور۔ادیب اور قلمکاروں سے لیکر فلم اداکار  تک نے ملک کی بے چینی کو محسوس کرتے ہوئے ۔اپنے ایوارڈس اور ا اعزاز  واپس کر دیئے۔تو وہیں ملک کی موجودہ سیاست  پربھی سوال اٹھے۔مرکزی سرکار نے وعدے زیادہ کئے اور کام کم۔سڑک سے لیکر پارلیمنٹ تک  خوب ہنگامہ ہوا۔یہ ملک اور عوام کی بد قسمتی کہیئے یا سیاست کہ پارلیمنٹ کے دو سیشن بری طرح  متاثر ہوئے ۔اپوزیشن ۔حکومت کی غلطیوں کو گناتا رہا۔تو سرکار  میں بیٹھے لوگوں نے اس پرتوجہ نہیں دی اور اسے اپوزیشن کی بوکھلاہٹ سے تعبیر کیا۔ان سب کے بیچ ۔عوام کی مشکلات ۔اور پریشانیوں پر کسی نے دھیان نہیں دیا۔خاص کر اقلیتوں اور مسلمانوں کے لئے سال بڑا مایوس کن رہا۔چاہے بات عدم رواداری  کی ہو یا گئو کشی اور ریزرویشن کی۔تقریبا ہر ریاست میں مسلمان اپنے مسائل کو لیکر پریشان ہی دکھے۔مہاراشٹر میں گئو کشی اور ریزرویشن کو لیکر مسلم طبقہ پریشان رہا۔تو تلنگانہ کی سرکار نے بھی مسلمانوں سے صرف وعدے ہی کئے۔تو وہیں اترپردیش اور مدھیہ پردیش کے مسلمان اپنے سال کو لیکر سال بھی جوجھتے ہی رہے۔
سال دوہزارپندرہ جارہا ہے لیکن عوام کے مسائل وہی ہیں۔وہی ان کی  پریشانیاں اورمشکلیں ہیں۔سیاست دانوں سے وعدے وفا نہ کرنے کاسوال۔عدم اعتمادی ۔عدم تحفظ اورعدم رواداری کا احساس۔خواتین  میں  گھریلوتشدداورجنسی ہراسانی کا ڈروہی ہے۔مہنگائی۔معیاری تعلیم  کمی اورملازمت کی فکربھی  کم نہیں ہے۔ایسے میں عوام ارباب اقتدار کی جانب امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہےہیں کیوں کہ عوام کی سلامتی وترقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔۔


Note

You can watch a debate on is issue,please click on this link