Thursday, 25 February 2016
Wednesday, 24 February 2016
Unbelievable Dr Fouzia Choudhary Urdu Academy Karnataka Chairperson is no more.May Allah accept her deeds and grant her highest place in paradise.Deep condolences may Almighty Allah give strength to family members to bear irreparable loss.
Inna lillahi Wa inna ilaihi Raajioon
On 6th Jan 2016,She was in Big Bulletin Program(Etv Urdu)
لاتور واقعہ پولیس محکمہ کے وجود پر سوال؟
LATUR MUSLIM POLICEMAN BEATEN AT DUTY
لاتور کے پان گاؤں میں ایک ایسا دردناک واقعہ پیش آیا جس نے پورے پولیس محکمہ کے وجود پر سوالیہ نشان لگادیا ہے ۔متنازعہ مقام پر بھگواپرچم لگانے سے منع کرنے پر شیخ یونس نامی پولیس اہلکار کومشتعل ہجوم نے نہایت بے رحمی سے پیٹ پیٹ کر زخمی کردیا ۔دراصل لاتور کے پان گاؤں میں شیوجینتی کے موقع پرمشتعل ہجوم نے پولیس چوکی پر حملہ کردیا ۔جس میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ۔شیخ یونس کا ساتھی پولیس اہلکار وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب رہا ۔لیکن ہجوم نے شیخ یونس کو پکڑ لیا۔اور انکے ساتھ نہایت بر بریت کا مظاہر ہ کیا۔شرپسندوں کی بھیڑ نے شیخ یونس کو جبرا بھگوا جھنڈا تھما دیا۔اور ان سے شیوا جی اور جے ماتا دی کے نعرے لگوائے۔بھیڑ نے شیخ یونس کے ساتھ مارپیٹ بھی کی ۔جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہو گئے ۔ادھر،اس معاملے پر محکمہ پولیس کی غفلت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔کیوں کہ جس وقت شیخ یونس کے ساتھ یہ سب ہو رہا تھا۔اس وقت پولیس موقعہ واردات پر کافی تاخیر سے پہنچی۔خیر۔دو دن بعد ہی صحیح۔مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اس معاملے کانوٹس لیتے ہوئے کہا ہے۔کہ یہ معاملہ صرف ایک پولیس اہلکار کا نہیں بلکہ پورے پولیس محکمے کے لئے بڑا چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری سرکار ایسے کسی بھی واقعہ کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔لیکن سوال یہ اٹھتا ہے۔ کہ اس معاملے کو تین دن گزر گئے ہیں۔لیکن اب تک اس معاملے میں کوئی کاروائی کیوں نہیں ہوئی؟ قصوروار اب تک پولیس کی گرفت سے باہر کیوں ہیں؟اس پورے معاملے پر ریاست کی اپوزیشن جارحانہ موڈ میں ہے۔کانگریس کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر سمیت پورے میں ایک خاص سوچ رکھنے والوں کی دہشت ہے۔این سی پی نے کہا کہ لاتور معاملہ ریاست کے لئے بڑا افسوسناک ہے۔وہیں شیخ یونس کی فیملی اس حملے کے بعد ڈر و خوف کے ماحول میں ہے۔فیملی نے اس پورے معاملے میں پولیس کی کاروائی پر بھی عدم اطمینان ظاہر کیا ہے ۔شیخ یونس کی اہلیہ نے کہا پولیس محکمہ میں کام کرتے ہوئے انہیں آج یہ دن دیکھنا پڑے گا اس کا تصور بھی انہوں نے نہیں کیا تھا ۔لیکن آج جن حالات سے انہیں گذرنا پڑرہاہے اس کے بارے میں اب انہیں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔واضح رہے کہ پان گاؤں میں ماضی میں بھی اس طرح کے دو سے تین واقعات پیش آچکے ہیں ۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس طرح کے واقعات بار بار کیوں پیش آتے ہیں۔کیا انتظامیہ ایسے معاملےپرآنکھ موند لیتی ہے؟
Tuesday, 23 February 2016
کیا یہ بجٹ اجلاس مودی سرکار کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے؟
Parliament budget session 2016
پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا آغاز ہو چکا ہے۔پہلے دن صدر جمہوریہ نے خطاب کیا اور موجودہ سرکار کی اسکیموں ۔منصوبوں اور پالیسیوں اور حولیابیوں کا ذکر کیا۔لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ مرکزی سرکار ۔اپوزیشن کے حملوں کے لئے کتنی تیار ہے۔کیوں کہ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن سے ٹھیک پہلے جاٹ ایجی ٹیشن نے سرکار کی نینڈ اڑا دی ہے۔تو وہیں جے این یو معاملہ آگ میں گھی کا کام کر سکتا ہے۔اس بیچ وزیر اعظم نریندر مودی نے امید ظاہر کی ہے کہ اپوزیشن ۔بجٹ سیشن کو بخوبی انجام تک پہنچا نے میں تعاون دے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ پارلیمنٹ سیشن میں اپوزیشن کو سرکار کی کمیاں اجاگر کرنی چاہئیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اپوزیشن سیشن چلنے دینے میں سرکار کا تعاون کرے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان تیزی سے ترقی کرنے والا ملک بن رہا ہے۔ایسے میں ملک کے ایک سو پچیس کروڑ عوام کے علاوہ بیرون ممالک کی نظر بھی ملک کے بجٹ سیشن پر رہے گی۔وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے بھروسہ ہے کہ پارلیمنٹ کا استعمال مثبت بحث کے لئے کیا جائے گا۔اور عوام کی امیدوں پر کھرا اترنے کی کوشش کی جائے گی۔خیر۔بجٹ سیشن سے پہلے جے این یو معاملہ اور ہریانہ جاٹ ایشو کو لیکر اپوزیشن جارحانہ موڈ میں ہے۔ایسے میں پارلیمنٹ کا پر سکون ماحول میں چل پانا مشکل نظر آرہا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے دو سیشن پوری طرح ہنگامے کی نذر ہوچکے ہیں۔حالاں کہ مرکزی سرکار اور خاص کر عوام کو موجودہ بجٹ سیشن سے کافی امیدیں وابستہ ہیں۔لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اس بار پارلیمنٹ کا سیشن بخوبی چل پائے گا یا پھر ہنگا موں کی بھینٹ چڑھ جائے گا۔جی ایس ٹی سمیت کئی اہم بل پارلیمنٹ میں لٹکے ہوئے ہیں۔کیا ان اہم بلوں پر پارلیمنٹ میں مثبت بحث ہو پائے گی یا یہ سیشن بھی واش آؤٹ ہو جائے گا؟
Monday, 22 February 2016
کیا اس ایشو پر تمام پارٹیاں فائدہ اور نقصان دیکھ رہی ہیں؟
Jat stir in Haryana
ہریانہ میں جاٹ ریزرویشن کی مانگ کو لیکرایک بار پھر ہنگامہ برپا ہے۔پچھلے ایک ہفتے میں ریزرویشن کی مانگ کو لیکر ہورہے ہنگامے سے اب تک کئی افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہیں۔اس کے علاوہ کروڑوں روپیوں کا نقصان ہوا ہے۔حالات ایسے ہیں کہ سیکورٹی ایجنسیاں اور فوج بے بس ہے۔جاٹ سماج کے لوگوں میں ریزرویشن کو لیکر سرکار کے رویے پر غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔اس بیچ بی جے پی نے اعلان کیا ہے۔کہ ہریانہ اسمبلی کے اگلے سیشن میں جاٹ سماج کو ریزرویشن دینے کے لئے بل لایا جائیگا۔بی جے پی کی ہریانہ یونٹ کے جنرل سکریٹری انل جین نے اس خبر کی اطلاع دی۔جین نے یہ اعلان وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کے بعد کیا۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ سرکار کے اس وعدے پر عوام کتنا بھروسہ کرے؟ اسمبلی انتخابات میں بھی جاٹ سماج سے ریزرویشن کا وعدہ کیا گیا تھا۔لیکن انتخابات کے بعد سرکار اپنے وعدے سے پلٹ گئی۔ادھر،کانگریس اس پورے معاملے پر بی جےپی کو گھیر رہی ہے۔پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن سے ٹھیک پہلے جاٹ آندولن نے سرکار کی نینڈ اڑا دی ہے۔لیکن اس آندولن سے ریاست کی سبھی بڑی پارٹیوں کا نفع نقصان جڑا ہوا ہے۔ہریانہ کے ان حالات سے بی جے پی سب سے زیادہ تشویش مندہے۔جبکہ ادھر کانگریس ۔ریاست کے ان حالات کو اپنے حق میں موڑنے کی تاک میں ہے۔کانگریس جاٹ ریزرویشن معاملے کو لیکر اور برادریوں کے لئے ریزرویشن کا ایشو اٹھا کر بی جے پی کو گھیرنے کی کوشش کر رہی ہے۔یعنی کانگریس اس معاملے سے ریاست میں اپنی کھوئی ہوئی زمین تلاش کرنے میں لگی ہوئی ہے۔سابق وزیر اعلیٰ اور سینئر کانگریس لیڈر بھوپیندر سنگھ ہڈا نے کہا کہ اگر اس معاملے پر مرکزی سرکاری کی منشا اور نیت صاف ہے۔تو وہ کانگریس کے فارمولے پر آگے بڑھے۔
Sunday, 21 February 2016
Friday, 19 February 2016
کب ختم ہوگی جے این یو معاملے پرسیاست؟
Nationalist vs Anti Nationalist
جے این یو میں ملک مخالف نعرے بازی کے بعد ۔ سیاست گرمائی ہوئی ہے۔جے این یو کیمپس ان دنوں سیاسی اکھاڑا بن گیا ہے۔اس معاملے کے بعد جہاں یونیورسٹی میں تعلیمی نظام درہم برہم ہے۔وہیں طلبا اور اساتذہ بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔جے این یو معاملے پر اب تو ملک بھی بٹا ہوا لگ رہا ہے۔ایک دھڑا جہاں اس پورے معاملے کی شدید مخالفت کر رہا ہے۔اور اس پورے معاملے کو ملک مخالف بتا رہا ہے۔وہیں ملک کا دوسرا دھڑا جے این یو معاملے کو سوچی سمجھی سازش بتا رہا ہے۔اور اس دھڑے کا کہنا ہے موجودہ حکومت ملک میں آر ایس ایس کی سوچ کو بڑھاوا دینا چاہتی ہے۔ایسے میں ملک دو حصوں میں بٹا ہوا نظر آرہا ہے۔ایک طرف وہ لوگ ہیں ۔جو جے این یو میں ہوئے متنازعہ پروگرام کی مخالفت کر رہے ہیں ۔اور وہ اس پروگرام کی حمایت کرنے والوں کو غدار قرار دے رہے ہیں۔دوسری جانب لوگ جے این یو کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کی حمایت کرنے والوں کے خلاف تو ہیں ۔لیکن وہ پورے ادارے کے کردار پر سوال اٹھانے والوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔اس پر بیان بازیوں نے معاملے کو بیجا طول دے دیا ہے۔ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجوں کا سلسلہ جاری ہے۔مختلف طلبا تنظیمیں اپنی اپنی سیاسی وابستگی کی مناسبت سے اور انکے موقف کے اعتبار سے احتجاج کر رہے ہیں۔ایک دوسرے کے خلاف ناشائستہ زبان بھی استعمال کی جارہی ہے۔کہیں کہیں تو دو گروپ آپس میں متصادم بھی ہو رہے ہیں۔حالاں کہ معاملہ عدالت کے زیر سماعت ہے۔اور قانونی طور پر اس میں پیش رفت بھی ہو رہی ہے۔دونوں فریق اپنا اپنا موقف پیش کر رہے ہیں۔حالاں کہ عدالت کی مداخلت سے معاملے میں کشیدگی تھوڑی کم ہوئی ہے۔لیکنابھی بھی لوگوں کے جذبات مشتعل ہیں۔دراصل سیاسی لیڈروں کی بیان بازی آگ میں گھی کا کام کر رہی ہے۔کچھ لیڈر تو ۔اس موقع کو غنیمت سمجھ کر اپنی سیاست چمکانے کے لئے ہر حربہ استعمال کر رہے ہیں۔۔۔جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ عدالت کے سامنے تمام حقائق اجاگر ہوں ۔اور انہیں کی بنیاد پر قصورواروں کو سزا ملے۔اور بے قصور افراد کو راحت ملے۔لیکن یہ جب ہی ممکن ہے۔جب لوگ اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں اور عدالت کو معاملے کا نپٹارا کرنے دیں۔
Subscribe to:
Posts (Atom)