Monday, 15 February 2016
Tuesday, 9 February 2016
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
Noted Urdu Poet and Bollywood lyricist Nida Fazli passes away
کٹھ پتلی ہے یا جیون ہےجیتے جاؤ سوچومت
سوچ سے ہی ساری الجھن ہے جیتے جاؤ سوچو مت
لکھا ہوا کردارکہانی میں ہی چلتا پھرتا ہے
کبھی ہے دوری کبھی ملن ہے جیتے جاؤ سوچومت
بے فکری کا پیام دے کرفکرکی دعوت دیتے ہیں ندا فاضلی۔سادگی کا پیکرندافاضلی چھوٹی بحروں میں بڑی باتیں انتہائی سہل انداز میں کہتے ہیں۔انھیں سامعین اورقاری کادل موہ لینے کاہنرخوب آتا تھا۔ان کے اشعارروزمرہ کی زندگی میں رچے بسے ہیں اورکچھ توضرب المثل بن گئے ہیں۔
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا
دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونہ ہے
مل جائے مٹی ہے کھو جائے توسونا ہے
اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیں
رخ ہواؤں کا جدھرجا ہے ادھرکے ہم ہیں
اردو کی گنکا جمنی اقدارکے امین ندا فاضلی کی شاعری انسانیت ۔محبت ۔اخوت اورفکرانگیزی کی دعوت دیتی ہے ۔
گھرسے مسجدہے بہت دور
چلو یوں کرلیں کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے
ندا فاضَلی نے شاعری کے تقریبًا سبھی اصناف میں طبع آزمائی کی۔انھوں نے دوہے بھی لکھے جوکافی پسندبھی کیے گئے۔ندا فاضَلی نے فلمی نغمے بھی لکھے جوکافی مقبول ہوئے۔اردو کے ممتاز شاعر اورمعروف نغمہ نگارندا فضلی کے سانحہ ارتحال ہرای ٹی وی بھی سوگوار ہے۔
ندا فاضلی اردو شاعری کا ایسا نام تھا جس نے اپنے منفرد اسلوب سے اردو شاعری میں اپنی شناخت بنائی تھی۔ آپ کا نام مقتدا حسن اور قلمی نام ندا فاضلی ہے۔ ندا کی پیدا ئیش با رہ اکتوبر انیس سو اڑتیس کو دہلی میں ہوئی تھی ۔حالانکہ ندا کا آبائی وطن ڈبائی اتر پردیش ہے۔ندا نے دہلی میں آنکھ کھولی لیکن ان کی تعلیم و تربیت گوالیار میں ہوئی ۔گوالیار میں ندا کی سکونت کا وجہ ان کے والد کی ملا زمت تھی ۔ندا فاضلی نے گوالیار سے پہلے اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی بعدازآں انہوں نے وکرم یونیورسٹی اجین سےہندی میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔
اردو شاعری میں ندا فاضلی کا کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ۔ ندا نے جس وقت ہوش سنبھالا اس وقت ملک تقسیم کی آگ میں جھلس رہا تھا۔ انسانیت شرمسار ہو رہی تھی۔ ایسے وقت میں ندا فاضلی کا احساس بیدار ہوا اور انہوں نے اپنے احساس کے اظہار کے لئے شاعری کا انتخاب کیا۔ندا نے محض تیرہ سال کی عمر میں شعر کہنا شروع کردیا تھا۔ ندا کو شاعری کا فن وراثت میں ملا تھا۔ ندا کے والد دعا ڈبائیوی کا شمار اردو کے مقتدر شعرا میں ہوتا تھا۔ انیس سو پینسٹھ کا سال ندا فاضلی کے لئے کرب اور ذہنی الجھنوں کا تھا۔ ایک طرف ماں ،باپ،بھائی ،بہن اور دوسرے رشتہ دار تھے جو ملک سے ہجرت کر کے پاکستان میں سکونت اختیار کرنا چاہتے تھے دوسری جانب نداکا اپنا وجود اور وطن کی محبت تھی۔ندا کے والدین نے ترک وطن کر کے پاکستان میں سکونت اختیار کر لی لیکن ندا سے ہندستان نہیں چھوڑا گیا۔البتہ گوالیار سے والدین اور بھائی بہنوں کے ترک وطن کے بعد ندا نے بھی گوالیار کو خیر باد کہہ کر ممبئی میں سکونت اختیار کر لی اور ممبئی میں ہی زندگی کی آخری سانیس لیں۔
ندا فاضلی کی تعلیم و تربیت گوالیار مد ھیہ پردیش میں ضرورہوئی لیکن ان کی شاعری کو مقبولیت ممبئی میں آنے کے بعد حاصل ہوئی ۔ندا ممبئی میں غزل کے مزاج داں بن کر گئے تھے۔یہی وجہ ہے کہ ممبئی کے اہل فن نے انہوں نے نہ صرف انہیں قبول کیا بلکہ انہیں آنکھوں کا تارا بنا کر رکھا۔ندا کی شاعری صرف عشق و عاشقی کی حد تک محدود نہیں تھی بلکہ انکی شاعری میں ہمیں زندگی کے تلخ مسائل ،سماجی نا ہمواریاں، حکمراں طبقے کا تعصب،اور عام انسانوں کی کسمپرسی کا عکس بھی نظر آتا ہے ۔ندا ان فن کاروں میں سے تھے جنہیں نظم و نثر دونوں میں بات کہنے کا ہنر آتا تھا۔ندا فاضلی نے شاعری کے ساتھ ناول نگاری،تحقیقی مضامین ،خاکے اور تنقیدی مضامین بھی لکھے ہیں ۔ندا نے جن شعری اصناف پر طبع آزمائی کی ہے اس میں غزل،نظم، قطعات تو ہیں ہی انہوں نے اردو میں دوہے لکھ کر جو مقبولیت حاصل کی وہ ان کی زندگی کا حاصل ہے ۔ندا کی جو شعری تخلیقات منظر عام پر آچکی ہیں ان میں لفظوں کا پل ،مور ناچ،آنکھ اور خواب کے درمیان ،شہر تو میرے ساتھ چل کے نام قابل ذکر ہیں جبکہ ندا کی نثری تخلیقات میں ملاقاتیں،چہرے شاعروں کے نام قابل ذکر ہیں ۔ چہرے شاعروں کے اردو کے ممتاز شعرا پر لکھے گئے ندا کے خاکوں کا مجموعہ ہے ۔ندا کے دو ناول بھی شائع ہوئے ہیں جن میں دیواروں کے بیچ اور دیواروں کے باہر کے نام قابل ذکر ہیں ۔
دیوناگری میں بھی ندا شاعری کے کئی مجموعے شائع ہوئے ہیں جن میں مور ناچ،آنسو بھر آیا،کھویا ہوا سا کچھ اور سفر میں دھوپ تو ہوگی کے نام قابل ذکر ہیں ۔
ندا فاضلی کے فکر و فن پر بہت سے گوشے اور خاص نمبر بھی شائع ہوچکے ہیں ۔سہ ماہی انتساب نے انیس سو اٹھاسی میں ندا فاضلی پر خاص نمبر شائع کیا تھا جسے ادبی حلقوں میں بہت پسند کیا گیا تھا۔
ندا فاضلی کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت ہند نے پدم شری کے اعزاز سے سرفراز کیا تھا جبکہ مد ھیہ پردیش حکومت نے شکھر سمان اور مدھیہ پردیش اردو اکادمی نے انہیں اپنے با وقار میر تقی میر اعزاز سے سرفراز کیا تھا۔
ندا فاضلی نے فلموں میں بھی بہت سے مشہور نغمے لکھے ہیں ۔ رضیہ سلطان،اس رات کی صبح نہیں،سرفروش،سر،آپ تو ایسے نہ تھے جیسی فلموں میں ان کے نغمے بہت مشہور ہوئے۔ انہوں نے بہت سے ٹی وی سیریل کے لئے بھی نغمے لکھے ہیں جن میں سیلاب ، نیم کا پیڑ،جانے کیا بات ہوئی،جیوتی کے نام قابل ذکر ہیں۔ ندا کی غزلوں کو جگجیت سنگھ ،کویتا کرشن مورتی اور دوسرے گلو کاروں نے بھی اپنی دلکش آواز میں گایا ہے ۔ ان کا یہ نغمہ دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے ۔مل جائے تو مٹی ہے کھوجائے تو سونا ہے۔ یا یہ نغمہ۔۔تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے کے نام قابل ذکر ہیں ۔
ندا فاضلی نے صحیح لکھا ہے کہ تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے ۔۔۔۔ ندا آج ہمارے بیچ نہیں ہے لیکن وہ اپنی تحریروں اور شاعری سے ہمارے ذہن ودل میں اس طرح سے رچ بس گئے ہیں جنہں صدیوں فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے ۔۔
Friday, 5 February 2016
مجلس اتحاد المسلین دوہزار سترہ کے یو پی اسمبلی انتخابات کے لئے تیار
Owaisi targets UP 2017 polls
ہندوستانی سیاست میں یہ بات مشہور ہے کہ دہلی کی گدی تک راستہ اترپردیش سے ہوکرجاتا ہے۔پچھلے عام انتخابات میں بی جے پی کی دھماکے دار کامیابی اس بات کی عمدہ دلیل ہے۔یعنی دلی پر راج کرنا ہے تو یوپی کو مضبوط کرو۔اترپردیش میں اسمبلی انتخابات ہونے میں اب ایک سال سے کم کا ہی وقت رہ گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ریاست میں انتخابی رنگ ابھی سےچڑھنے لگا ہے۔جہاں پارٹیوں نے اپنی حکمت عملی بنانا شروع کر دی ہے۔ وہیں تمام پارٹیوں کے بڑے لیڈران کے بیانات کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔دوقومی جماعتوں اور دومضبوط علاقائی جماعتوں سمیت دیگرسیاسی پارٹیوں کی بھیڑ میں مجلس اتحاد المسلمین بھی شامل ہوگئی ہے۔ مجلس حیدرآباد سے نکل کر اترپردیش کا رخ کر رہی ہے۔اور اس نے مشن دو ہزار سترہ کی شروعات بھی کر دی ہے۔کل ایم آئی ایم چیف اسدالدین اویسی نے یوپی کے فیض آباد میں ایک ریلی سے خطاب کیااس ریلی میں اسد اویسی کو سننے کے لئے بڑی تعداد میں لوگ پہنچے ۔ اس موقع پر انہوں نے سماج وادی پارٹی اور بی جے پی پر جم کر نشانہ سادھا ۔ بہار کے بعد اب ایم آئی ایم یوپی میں اپنی قسمت آزما رہی ہے۔بہار میں تو ایم آئی ایم کھاتہ تک نہیں کھول سکی تھی۔۔الٹے پارٹی کو تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اب ایم آئی ایم یوپی میں سیند ھ لگانے کی تاک میں ہے۔کیوں کہ یوپی میں اسمبلی کی چار سو سے زائد سیٹیں ہیں۔جن میں سو کے قریب ایسی سیٹیس ہیں جہاں مسلم بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔اور اپنے دم پر کسی بھی امیدوار کی قسمت کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایم آئی ایم یوپی میں بڑا داؤ کھیلنے جا رہی ہے۔فی الحال اس کی نظر بیکا پور کی سیٹ پر ہے۔جہاں اسی ماہ ضمنی انتخاب ہونے والا ہے۔ایم آئی ایم اقلیت اور دلت ووٹ بینک پر فوکس کر سکتی ہے۔خیر۔یوپی میں دو ہزار سترہ کی جنگ کے لئے تمام پارٹیوں نے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔جس کی وجہ سے یوپی کی سیاست ابھی سے گرما گئی ہے۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یوپی پر انتخابی رنگ چڑھنے لگا ہے؟کیا ابھی سے یوپی میں ووٹ بینک کی سیاست شروع ہوگئی ہے؟کیا تمام پارٹیوں کی نظر۔مسلم اور دلت ووٹ بینک پر لگی ہوئی ہے؟اورسب سے بڑھ کر سوال یہ کہ کیا۔ایم آئی ایم ۔یوپی میں علاقائی پارٹیوں کے لئے درد سر بن سکتی ہے؟
Thursday, 4 February 2016
بنگلورو میں تنزانیہ کی طالبہ پرحملہ
Mob strips Tanzanian girl
بنگلورو میں تنزانیہ کی طالبہ کے ساتھ کی گئی بدسلوکی کا معاملہ موضوع بحث ہے۔یہ معاملہ ایک ساتھ کئی سوال اٹھاتا ہے جن سے ہمارا سامنا ماضی میں بھی ہوچکا ہے۔خاتون کی ہراسانی۔سرعام زدوکوب کرنا۔بدسلوکی۔سلامتی اورتشدد یہ ساری چیزیں بہ یک وقت بنگلورو معاملہ ہمارے سامنے لاتا ہے ۔مشتعل ہجوم کی برہمی پشیمانی کا باعث ہے۔یہ حادثہ تھا جنون کی انتہا۔یہ محض غصہ تھا یا انتقامی کاروائی تھی یا کچھ اور۔یہ ساری باتیں تحقیق کا موضوع ہیں۔ریاستی حکومت نے تحقیات کا حکم بھی دے دیا ہے۔مرکز نے اس پورے معاملے پررپورٹ طلب کی ہے۔پانچ افراد کوگرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔ لیکن جو بنیادی سوال اٹھتا ہے کہ چند مشتعل لوگوں نے آخر قانون اپنے ہاتھوں میں کیوں لیا؟انھوں نے ایسا سوچ سمجھ کرکیا یا یہ سب کچھ بے ساختہ اور فوری ہوا؟یہ انتقامی کاروائی تھی یانسلی امتیاز اس کی وجہ تھی؟اس واقعے سے پورے ملک میں سنسنی پھیل گئی ہے اوربیرون ملک کے طلبہ و طالبات میں عدم تحفظ کا احساس پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوگیا ہے۔ملک میں خواتین کے تحفظ کا معاملہ گاہے بگاہے سرخیوں میں رہتا ہے ۔غیرملکی خواتین سیاحوں کے ساتھ جنسی ہراسانی کے معاملے بھی روشنی میں آتے رہتے ہیں لیکن کیا ہم نے ماضی کے ان واقعات سے سبق نہ سیکھنے کا تہیہ کررکھا ہے؟ہم سے کہاں پر چوک ہورہی ہے؟کیادرد کا مداوا درد ہے؟کیا انسانیت کے چہرے کومسخ کرنا انسانیت ہے۔کیا صبر۔تحمل اوررواداری کے لیے ہمارے دامن تنگ ہوگئے ہیں؟
ای ٹی وی اردو نے کی ایک بڑی پہل
Suspense on govt-formation on in J&K
ریاست جموں و کشمیر میں وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد سیاسی غیر یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔کیوں کہ سب کا کا خیال تھا کہ مفتی سعید کے بعد انکی بیٹی محبوبہ مفتی ہی ریاست کی اگلی وزیر اعلیٰ ہوں گی۔اور مفتی سعید بھی یہی چاہتے تھے کہ ان کی سیاسی باگ ڈور ۔انکی بیٹی محبوبہ مفتی ہی سنبھالیں ۔سب کو اس بات کا انتظار تھا کہ محبوبہ ۔اب کسی بھی وقت وزیراعلیٰ کا حلف لے سکتی ہیں۔لیکن ۔ایسا نہیں ہوا۔اور یہی سسپنس ۔عوام کو حیران کر رہا ہے۔کہ آخر۔سرکار بنانے اور وزیر اعلیٰ کا حلف لینے میں محبوبہ اتنا وقت کیوں لگا رہی ہیں۔ابتدا میں دونوں پارٹیاں اس بات سے انکار کرتی رہیں کہ اتحاد میں کسی طرح کی دراڑ پیدا ہوئی ہے۔لیکن جیسے جیسے حکومت بننے میں تاخیر ہوتی گئی اور لوگوں کا شک بھی یقین میں تبدیل ہوتا گیا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ریاستی عوام کی بے چینی اور سیاسی تذبذب کا ماحول بنتے دیکھ۔ای ٹی وی نے اپنی ذمہ داری سمجھی اور ایسے میں ای ٹی وی اردو نے ایک بڑی پہل کرتے ہوئے ایک اوپنین پول کرایا۔تاکہ اس سے عوام کی رائے جانی جا سکے۔ای ٹی وی اردو اور فیس بک نے مشترکہ طور پر یکم فروری سے اس اوپنین پول کی شروعات کی۔ریاست کے لوگوں کی رائے جاننے کے لئے ای ٹی وی نے تین اہم اشوزپر اوپنین پول کرایا۔اور لوگوں سے تین سوالات کے جوابات مانگے۔سوال یہ تھے کہ کیا اسمبلی تحلیل کرتےہوئے کرانا چاہیئے نئے انتخابات؟یا فورا ً لینا چاہیئے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف ۔کیا محبوبہ کو پی ڈی پی ، بی جے پی اتحاد برقرار رکھنا چاہیئے؟یا پھر محبوبہ کو کر نا چاہیئے کو ئی نیا اتحاد؟خیر۔آج اس اوپنین پول کے نتائج آگئے ہیں۔جموں و کشمیر کے لوگوں کا فیصلہ سامنے آ گیا ہے۔ کہ ریاست کی سیاست کو لیکر یہاں کی عوام کے ذہنوں میں کیا چل رہا ہے؟لوگوں نے ای ٹی وی کے سوالات پر اپنے جوابات دیئے۔اور اوپنین پول کو ملا زبردست رسپانس۔چلئے۔ایک ایک کر کے آپ کو ہم اوپنین پول کے نتائج بتا دیتے ہیں۔پہلا سوال ۔کیااسمبلی تحلیل کرتےہوئے کرانا چاہیئے نئے انتخابات؟یا فورا ً لینا چاہیئے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف ۔دس فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ فوراً نیا اتحاد بنانا چاہئے ۔سیتیس فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ دوبارہ انتخابات کرانے چاہئے۔ترپن فیصد لوگوں نےکہا کہ محبوبہ کوفوراً وزیر اعلیٰ کاحلف لیناچاہئے۔موجودہ حالت میں محبوبہ کے لیے کیاہے بہتر راستہ؟۔خیر۔ریاست میں عدم استحکام کا ماحول ہے۔ایسے میں پی ڈی پی ۔جو کہ ریاست کی سب سے بڑی پارٹی ہے۔اسے۔جلد سے جلد سنجیدہ فیصلہ لینے کی ضرورت ہے۔تاکہ عوام کے مسائل ضل ہوں۔اور ریاست بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔
Tuesday, 2 February 2016
مسلم وفد نے کی راج ناتھ سنگھ سے ملاقات
HM Rajnath Singh meets Muslim clerics over IS influencing
ملک میں موجود بے چینی اور مسلم مسائل کو لیکر مسلم وفد نے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کی۔اس میٹنگ میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال بھی موجود تھے۔ایک گھنٹے تک چلی اس ملاقات میں ۔مسلم رہنماؤں نے حالیہ دنوں ملک میں ہو رہیں مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں۔آئی ایس آئی ایس پر بڑھ رہی تشویش اور اے ایم یو ، جامعہ کے ریزرویشن کے مسائل سمیت مسلمانوں سے متعلق دیگر مسائل اٹھائے۔وفد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشت گردی کے نام پر یا آئی ایس آئی ایس کے نام پر کسی بے قصور کو گرفتار نہ کیا جائے۔وفد نے اس ملاقات کے دوران مرکزی وزیر داخلہ کی توجہ اس جانب بھی مبذول کرائی کہ دہشت گردی کے نام پر گرفتار ہونے کے بعد۔جو لوگ بے قصور ثابت ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں کے لئے بھی میکانیزم وضع کرنے کی ضرورت ہے۔تاکہ ایسے لوگ سماج سے الگ تھلگ ہو کر نہ رہ جائیں۔اس موقع پر مسلم وفد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر قابو پایا جائے۔اور اس پر سختی سے نظر رکھی جائے۔تاکہ نوجوان نسل کسی کے بہکاوے میں نہ آئے۔مسلم وفد نے وزیر داخلہ سے اپیل کی کہ اقلیتوں کے لئے فلاحی اسکیموں پر دھیان دیا جائے۔جس سے انکی نشو نما بہتر دھنگ سے ہو۔مسلم وفد کی بات وزیر داخلہ نے بڑے اطمنان سے سنی اور تمام مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔واضح رہے کہ گذشتہ رات مرکزی وزیر داخلہ نے ملک کی سیکورٹی ایجنسیوں کے افسران سے ملاقات کی تھی ۔اور کہا تھا کہ ملک میں آئی ایس آئی ایس سے متعلق تمام خبر وں پر نظر رکھیں۔آئی ایس کے مسئلے پر مسلم رہنماؤں نے پہلی بار وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کی ہے۔اور اس مسئلے پر سرکار کو ہر مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔اس وفد میں پندرہ مسلم رہنماشامل تھے۔لیکن۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اس طرح کی ملاقات اور مذاکرات سے ۔مسلمانوں کے مسائل حل ہوں گے؟کیوں کہ اس سے پہلے بھی کئی مسلم وفود وزیر اعظم اور دوسرے وزرا سے ملاقات کر چکے ہیں۔کیا واقعی۔سرکار۔مسلم معاملات کو لیکر سنجیدہ ہوگی؟کیا واقعی بے قصور ثابت ہوئے مسلم نوجوانوں کے لئے سرکار کوئی میکانزم وضع کرے گی؟کہ بیرون ممالک میں مسلمانوں کے مسائل پر بولنے والے وزیر اعظم ۔ملک کے اندر بے روزگار مسلم نوجوانوں کی طرف دھیان دیں گے؟کیا اب۔مرکزی سرکار بھی ۔اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں کے مسائل پر صرف کہنے تک ہی نہیں بلکہ عمل کر کے بھی دکھائے گی
Monday, 1 February 2016
آندھرا میں پولیس عہدیدار کی زہرافشانی
Tension in Nellore over 'burqa remark'
آندھرپردیش کے ضلع نیلور میں مقامی پولیس اسٹیشن کے ایس پی نے مسلم نوجوانوں کو کاؤنسلنگ کے لئے مدوع کیا تھا۔اس دوران ایس پی گجاراؤ بھوپل نے مسلمانوں کے خلاف کئی الزامات لگائے۔ایس پی نے مسلمانوں کو دہشت گرد تک کہہ ڈالا۔ایس پی گجاا رؤ نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجرو ح کیا۔اور یہ سب کچھ اس پروگرام میں کیا گیا ۔جہاں ایس پی نے مسلم وفد کو کاؤنسلنگ کے لئے بلایا تھا۔دو دن قبل دہشت گردی کے خلاف بیداری سے متعلق ایک سیمنار میں ایس پی گجا راؤ نے مسلم نوجوانوں کی کثیر تعداد کو دیکھتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف انتہائی قابل اعتراض ریمارکس کئے تھے۔گجا راؤ نے کہا تھا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے آبا و اجداد ہندو تھے۔مسلمان مرد کو داڑھی رکھنے اور ٹوپی پہننے کی ضرورت نہیں ہے۔انہیں اپنا لباس بھی تبدیل کرنا چاہئے۔اور انہیں بھی عام ہندوؤں کی طرح رہنا چاہئے۔مسلمان عورتیں برقعہ ترک کردیں۔ایس پی گجا راؤ نے مدارس بند کرنے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ مدارس میں دہشت گرد پیدا ہوتے ہیں۔اور اگر ایسا نہیں ہوا ۔تو دہشت گردی کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔ایس پی نے آر ایس ایس کو حب الوطن تنظیم قرار دیا۔انہوں نے مسلم نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ہندو دھارے میں شامل ہوجائےیں اوردہشت گردوں کے جال میں نہ پھنسیں۔اس طرح کے نا زیبا سلوک اور بد کلامی پر علاقے کے لوگوں نے ایس پی گجاراؤ کے خلاف احتجاج کیا۔دھیرے دھیرے اس احتجاج نے کشیدہ صورتحال اختیار کرگیا ۔ برہم احتجاجیوں نے ون ٹاون پولیس اسٹینشن کا گھیراو کرنے کی کوشش کی ۔ احتجاجیوں کو روکنے کیلئے پولیس نے ہوائی فائرنگ کی ۔ مسلمانوں کو دہشت گرد کے طور پر پیش کرنے والے ایس پی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا ۔ حالات پر قابو پانے کیلئے خصوصی دستوں نے لاٹھی چارج کیا ۔ جس کے سبب چند افراد کے زخمی بھی ہوگئے ۔ احتجاجیوں نےمسلمانوں سے عام معافی کا ایس پی سے مطالبہ کیا ہے۔لیکن ایس پی گاجا راؤ اپنے بیان پر اٹل ہے۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایک باوقار عہدے پر موجود۔افسر کے ذریعہ اس طرح کی حرکت سے سماج میں کیا پیغام جائے گا۔کیا اس طرح کے بیانات اور بد کلامی سے سماج کا تانا بانہ نہیں بگڑے گا؟ایم آئی ایم نے ایس پی کو جلد سے جلد ہٹانے کی درخواست کی ہے۔پارٹی کا کہنا ہے کہ ایس پی گاجا راؤ آر ایس ایس کے ایجنٹ ہیں۔سوال یہ بھی اٹھتا ہےکہ سماج کے ایک طبقے کو۔منفی نظر سے دیکھنا۔کتنا درست ہے؟
Subscribe to:
Posts (Atom)