Sunday, 12 June 2016
Tuesday, 7 June 2016
دادری میں پھر ماحول خراب کرنے کی کوشش؟
Dadri holds Panchayat On Beef Report
اترپردیش کے دادری میں ایک بار پھر ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔دراصل دادری میں محمد اخلاق کے قتل میں اخلاق حسین پر گائے کا گوشت رکھنے کے الزام میں شرپسندوں نے اخلاق کے افراد خاندان پر حملہ کیا ۔دوسری اور مبینہ فارنسک رپورٹ کے مطابق اخلاق کے فریج میں گائے کا گوشت تھا ۔ رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد اس معاملے پر سیاست تیز ہوگئی ہے ۔ اخلاق حسین کے خاندان پر حملہ کرنے کے الزام میں ایک درجن سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ فی الوقت یہ تمام افراد جیل میں قید ہیں ۔ اس معاملے میں دو فارنسک رپورٹس سامنے آئی ہیں اور دونوں ہی رپورٹس الگ الگ ہیں۔سوال دوسری پر اٹھ رہے ہیں کہ اتنے عرصے میں یہ رپورٹ کیسے بدل گئی؟۔بساڑہ گاؤں میں پیر کو ایک پنچایت منعقد کی گئی۔اس پنچایت میں لوگوں نے حکومت سے محمد اخلاق کے اہل خانہ کے خلاف بیس دن کے اندر اندرگئو کشی کا مقدمہ درج کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔گاؤں والوں نے کہا کہ متھرا کی لیبارٹری کی رپورٹ کی بنیاد پر محمد اخلاق کے اہل خانہ کے خلاف گئوکشی کا مقدمہ درج کیا جائے۔واضح رہے کہ گزشتہ سال گائے کا گوشت رکھنے کے شبہ میں ایک مشتعل ہجوم نے بساڑہ گاؤں میں محمد اخلاق کے گھر پر حملہ کر دیا تھا۔ حملے میں محمد اخلاق کی موت ہو گئی تھی جبکہ ان کا چھوٹا بیٹا شدید زخمی ہو گیا تھا۔گزشتہ دنوں سامنے آئی لیبارٹری کی رپورٹ کے بعد گاؤں والوں نے مبینہ طور پر ایک سو سے زیادہ گاؤں کی مہا پنچایت بلائی تھی۔ حالانکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کوئی مہا پنچایت نہیں ہوئی۔ بلکہ صرف میٹنگ بلائی گئی تھی۔اس میٹنگ میں بنیادی طور پر محمد اخلاق کے قتل کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے لوگوں کے اہل خانہ کے علاوہ کچھ مقامی لوگ بھی تھے۔واقعہ کے سلسلے میں ایک مقامی رہنما کے بیٹے سمیت کل اٹھارہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔اس سے قبل ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اخلاق کے گھر کے فرج سے برآمد گوشت بکرے کا تھا جبکہ حال ہی میں ملزمان کے وکیل متھرا کی لیبارٹری کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ جو گوشت سڑک پر محمد اخلاق کی لاش کے پاس سے برآمد ہوا تھا وہ بیف تھا۔اجلاس میں واضح طور پر محمد اخلاق کے گھر والوں پر مجرمانہ مقدمہ درج کرنےکے مطالبے کے ساتھ ساتھ خاندان کو دیا گیا معاوضہ واپس لینے کی مانگ بھی کی گئی۔لیکن۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ انتظامیہ کی سخت تنبیہ کے باوجو دادری میں پنچایت کیسے منعقد ہوئی؟اور سوال یہ بھی ہے کہ گاؤں کے لوگ قانون کیسے ہاتھ میں لے سکتے ہیں؟کیا یوپی اسمبلی انتخابات کو لیکر ایک بار پھر ریاست کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اور کیا اس پنچایت کے پیچھے سیاست کار فرما ہے؟
Thursday, 2 June 2016
فیصلے سے متاثرین کے زخم بھریں گے؟
Special court convicts 24 for Gulbarg Society massacre
دو ہزار دو گجرات فسادات آزاد ہندوستان کے ماتھے کا بدنماداغ ہے ۔ گودھرا ٹرین آتشزدگی کے ٹھیک ایک دن بعد احمد آباد کی گلبرگ سوسائٹی میں ہونے والے قتلِ عام نے ریاستی سرکار پرسوال کھڑے کئے تھے۔اب چودہ سال کے طویل انتظار کے بعد گلبرگ سوسائٹی قتلِ عام کے مقدمے کا فیصلہ آیا ہے۔اس فیصلے میں چوبیس ملزمین کو قصوروار ٹھہرایا گیاہے۔جبکہ چھتیس کو بری کر دیا گیا۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ اتنی تاخیر سے آیا یہ یصلہ۔ کیا متاثرین کے زخموں پر مرہم کا کام کرے گا؟واضح رہے کہ سزا کا تعین چھ جون کوکیا جائیگا ۔ جن افراد کو عدالت نے مجرم قرار دیا ہے اس میں وشو ہندو پریشد کے ایک رہنما اتل ویدیہ بھی شامل ہیں۔۔ہم آپ کو بتا دیں کہ مشتعل ہجوم نے اٹھائیس فروری دو ہزار دو کو احمد آباد کی گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی میں داخل ہو کر انہتر افراد کوموت کے گھاٹ اتار دیا تھا جن میں کانگریس کے سابق رکن پارلیمان احسان جعفری بھی تھے۔۔ گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی کیس کا یہ مقدمہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں چلا۔ گجرات فسادات سے متعلق دیگر مقدمات بھی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جاری ہیں۔ مقدمے کی سماعت کے دوران چار افراد کی موت ہو چکی ہے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران چار ججوں کے تبادلے بھی ہوئے تھے۔جبکہ تین سو سے زیادہ افراد کی گواہی شامل کی گئی تھی ۔اس قتل عام نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ سابق رکن پارلیمان احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری نے کہا کہ فیصلہ ادھورا ہے۔وہ اس معاملے کو اعلیٰ عدالت میں لے جائیں گی۔متاثرین کا کہنا ہے کہ شک عدالت کے فیصلے پر نہیں بلکہ ریاستی اور مرکزی حکومت کی نیت پرہے۔
Wednesday, 1 June 2016
اترپردیش میں نئی سیاسی صف بندی؟
Azam,Bukhari & Owaisi can come on a platform?
آسام میں بی جے پی کی جیت نے اترپردیش میں اس کے کارکنوں میں نئی جوش بھردی ہے۔ سہارنپور میں وزیراعظم نے چناوی بگل پھونک دی ۔ ریاست اترپردیش میں دو ہزار چودہ عام انتخابات میں بی جے پی کا مظاہرہ شانداررہا تھا اور اب پارٹی اترپردیش پر فوکس کررہی ہے۔ یہاں بی جے پی کو سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی سے کڑی ٹکر ملنے والی ہے۔ یوپی کی چناوی بساط پرمہرے بچھائے جارہے ہیں ۔ کانگریس اپنی زمین تلاش میں لگی ہے۔ اترپردیش میں سبھی جماعتوں کی نگاہیں مسلمانوں کے ووٹ پر ہے۔اس بیچ خبریہ ہے کہ دو ہزار سترہ اسمبلی انتخابات میں اقلیتی کے تین بڑے چہرے اور لیڈر یعنی اعظم خان۔اسد الدین اویسی اور امام بخاری ایک پلیٹ فارم پر آسکتے ہیں۔ان تینوں کے ساتھ آنے کے پیچھے دلیل یا ترک دیا جا رہا ہے کہ مسلم ووٹ بینک کو بکھرنے سے بچانے کے لئے یہ محاذ بنایا جا رہا ہے۔ لیکن دوسری طرف اس محاذ یا اتحاد پر سوال بھی اٹھ رہے ہیں۔ بنیادی سوال یہ کہ کیا یہ تینوں لیڈ ایک پلیٹ فارم پر آسانی سے آسکتے ہیں؟کیوں کہ ان تینوں لیڈران کی راہیں الگ الگ ہیں۔اور ماضی میں یہ لیڈران ایک دوسرے کی نکتہ چینی کرچکے ہیں ۔ایسے میں کیا یہ لوگ ماضی کی تلخیاں بھلا پائیں گے؟کیا یوپی کی سیاست میں اس بار مسلم ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوپائیں گے؟
Saturday, 28 May 2016
اچھے دن کب آیئں گے؟
2 Years Of Narendra Modi Government
این ڈی اے حکومت اور مودی کی وزرات عظمیٰ کو دو سال مکمل ہونے پر این ڈی اے اور خاص کر بی جے پی جشن میں ڈوبی ہوئی ہے۔اس جشن کا سلسلہ یوپی میں سہارنپور میں بی جے پی کی شاندار ریلی سے شروع ہوا۔اور اب دہلی کے انڈیا گیٹ پر پانچ گھنٹے طویل جشن منایا جا رہا ہے۔جس میں مختلف کلچرل پروگرام پیش کئے جائیں گے۔اس پروگرام میں وزیر اعظم مودی۔مرکزی وزرا۔بی جے پی اقتدار والی ریاستوں کے وزرا اعلیٰ۔اور بی جے پی کی اتحادی پارٹیوں کے سربراہان اور کارکنان شرکت کریں گے۔اور جشن کا یہ سلسلہ یہیں نہیں تھمے گا۔بی جے پی پورے ملک میں دو سو مقامات پر جشن کے پروگرام منعقد کرے گی۔ہم آپ کو یاد دلادیں کہ سال دو ہزار چودہ میں چھبیس مئی کے دن مودی نے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف لیا تھا۔اور پہلی بار دہلی کے تخت پر براجمان ہوئے تھے۔اس وقت مودی نے دہلی کے لال قلعہ سے عوام کو ترقی۔بھائی چارے۔بد عنوانی سے پاک ہندوستان۔غربت کا خاتمہ کرنے جیسے سینکڑوں وعدے کئے تھے۔لیکن۔ان دو برسوں میں این ڈی اے حکومت اور مودی جی نے کتنے وعدے وفا کئے۔یہ تو سرکار کی دو سالہ رپورٹ کارڈ سے ہی صاف ظاہر ہو جاتا ہے۔وزیر اعظم مودی کے دو سال مکمل ہونے پر اب سوال یہ اٹھ رہا ہےکہ ان دو برسوں میں مودی حکومت نے کیا پایا اور کیا کھویا؟اور سوال یہ بھی ہے کہ مودی حکومت نے ان دو برسوں میں کتنے وعدے وفا کئے؟کیوں کہ صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے دوسرے حصوں میں ایک امید جگی تھی۔عوام کو وزیر اعظم مودی سے کافی امیدیں وابستہ تھیں۔اور اس بات کا ثبوت تھا دو ہزار چودہ میں این ڈی اے کو ملی بھاری بھرکم جیت۔اس جیت میں ملک کی تمام ریاستوں اور ہر طبقے کا ساتھ مودی کو ملا۔بی جے پی اور خاص کر نریندر مودی نے ملک کی تصویر بدلنے کا عوام سے وعدہ کیا۔ بیلک منی کو ملک واپس لانا۔بدعنوانی پر لگام کسنا۔مہنگائی پر قابو پانا وغیر وغیرہ۔ملک کی عوام نے مودی پر آنکھ موند کر بھروسہ کیا۔عوام کو اس سرکار سے معیشت میں بہتری لانے کی امید تھی۔کیوں کہ جب مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے ۔تب انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہی ایک لیڈر ہیں جو ہندوستان کو آگے لے جاسکتے ہیں۔اس وقت لگا تھا کہ اب ملک کی قسمت بدلنے والی ہے۔لیکن ان دو برسوں میں اس سرکار نے ایسا کچھ نہیں کیا ۔جس سے کہا جائے کہ یہ حکومت اپنے وعدوں پر کھرا اتری ہے۔بلکہ سرکار اور بی جے پی ملکی اور اپنے اندرونی خلفشار کا ہی شکار رہی۔مرکز میں نئی سرکار آتے ہی گھر واپسی ۔گاؤ کشی ہتیہ پر پابندی کی مانگ اٹھی۔اسی بیچ حیدرآباد یونیورسٹی میں ویمولا خودکشی اور جے این یو میں ملک مخالف نعرے بازی کا معاملہ سرخیوں میں رہا۔ملک میں پھیلی بے چینی کے بیچ اپوزیشن ایک پلیٹ فارم پر نظر آیا اور پارلیمنٹ میں سرکار کی ایک نہ چلنے دی۔اور کئی اہم بل ایوان میں لٹکے ہی رہ گئے۔دوسری جانب مودی سرکار اپنے پڑوسی ممالک سے رشتے سدھارنے میں تھوڑی کامیاب نظر آئی۔پاکستان اور چین سے اچھے رشتے قائم ہوئے۔خیر۔ان دو برسوں میں مودی حکومت نے جہاں بہت کچھ پایا ہے۔تو وہیں بہت کچھ کھویا بھی ہے۔ایک طرف جہاں ملک کی عوم کو ان دو برسوں میں صرف وعدے اور بیرون ممالک کے سفر ہی ہاتھ لگے ہیں۔تو وہیں عوام اس انتظار میں بھی ہے کہ یہ سرکار ایکشن میں نظر کب آئے گی؟عوام کو انتظار ہے اچھے دنوں کا۔دوسری طرف اپوزیشن مودی حکومت کے ان دو برسوں کو خامیوں سے پر تعبیر کر رہی ہے ۔کانگریس کا کہنا ہے کہ ان دو برسوں میں مودی سرکار نے کہا زیادہ اور کیا کچھ نہیں۔مودی بدعنوانی پر لگام لگانے کی قسم تو کھاتے ہیں ۔پر حقیقت میں وسندھرا راجےسے لیکر رمن سنگھ تک اپنے ہی وزرائے اعلیٰ پر لگ رہے بد عنوانی کے الزامات کو ان دیکھا کرتے ہیں۔انکی پارٹی پاکستان کو سبق سکھانے کی بات تو کرتی ہے۔لیکن مودی اپنی حلف برداری تقریب سے لیکر نوازشریف کی ناتن کی شادی تک میں ان سے ہاتھ ملاتے دکھتے ہیں۔یعنی جو گجرات کی گدی سے دکھتا تھا۔وہ دہلی کے لال قلعہ سے کچھ اور ہی دکھتا ہے۔ادھر۔مودی سرکار کے ان دو برسوں میں اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں کو بھی مایوسی ہی ہاتھ لگی ہے۔مودی سرکار کی مسلم سماج سے بے رخی اور فرقہ پرستی کو ہوا ملی یوپی کےدادری واقعہ سے ۔جہاں محض گائے کا گوشت رکھنے کی افواہ پر مشتعل بھیڑ نے ایک مسلم شخص کا بہیمانہ قتل کر دیا ۔اس واقعہ کو لیکر ملک میں عدم رواداری پر ایک نئی بحث چھڑ گئی۔اور ایوارڈ اور اعزاز واپسی کے سلسلے نے مودی حکومت کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔اس کا اثر بہار میں دیکھنے کو ملا۔جہاں بی جے پی کی کراری شکست ہوئی۔خیر۔اب آسام کی جیت نے بی جے پی کے لئے کچھ راحت کا کام کیا ہے۔لیکن،بات پھر اس سرکار کے وعدوں پر آکر رک جاتی ہے۔کہ مودی جی۔اچھے دن کب آئیں گے؟اور اب لوگ پوچھنے لگے ہیں کہ دو ہزار انیس میں کیا ہوگا؟
Friday, 27 May 2016
اظہار خیال کی آزادی خطرے میں؟
Madhya Pradesh Govt removes Barwani collector for praising Nehru
ملک میں اکثرو بیشتر اظہار خیال کی آزادی پر بات ہوتی رہتی ہے۔اس کی بڑی وجہ ہے۔ملک میں رونما ہونے والے ایسے واقعات ۔جو اظہار خیال کی آزادی کے خلاف سامنے آتے ہیں۔چاہے وہ کانگریس کا زمانہ رہا ہو یا بی جے پی کا۔ہر دور میں اس طرح کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔اور اب ایسا ہی ایک واقعہ سامنے آیا ہے۔مدھیہ پردیش میں ۔جہاں ایک افسر کا تبادلہ صرف اس بنا پر کردیا گیا۔کیوں کہ انہوں نے گاندھی ۔نہرو خاندان کی تعریف کی تھی۔اور وہ بھی سوشل میڈیا یعنی فیس بک پر۔ کلکٹر اجے گنگوار کو فیس بک پرنہرو اور گاندھی خاندان کی تعریف کرنا اتنا مہنگا پڑے گا۔شاید کلکٹر صاحب نے سوچا بھی نہیں ہوگا۔
چلئے اب۔ذرا آپ کو اس پوسٹ کے بارے میں بتا دیں جو اجے گنگوار نے بدھ کے روز اپنی فیس بک پوسٹ کیا تھا۔انہوں نے لکھا تھا۔ذرا وہ غلطیاں بتا دیجیئے جو نہرو کو نہیں کرنی چاہیے تھیں۔ اگر انہوں نے سنہ انیس سو سینتالیس میں آپ کو ہندو طالبان قوم بننے سے روکا تو کیا یہ ان کی غلطی تھی۔ انہوں اے آئی آئی ٹی۔اسرو۔ آئی آئی ایس بی۔ آئی آئی ایم۔ بھیل اسٹیل پلانٹز۔ڈیمز۔ تھرمل پاور پلانٹ لگوائے ۔یہ ان غلطی تھی ۔اجے گنگوار نے مزید لکھا تھا: 'آسارام اور رام دیو جیسے انٹیلیکچولزکی جگہ سارا بھائی اور ہومی جہانگیر کو عزت اور کام کرنے کا موقع دیا یہ ان کی غلطی تھی، انہوں نے ملک میں گاؤشالہ اور مندر کی جگہ یونیورسٹیاں کھولیں یہ بھی ان کی بڑی غلطی تھی۔
دراصل مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی حکومت ہے۔یہی وجہ ہے کہ تمام تنقیدیں ریاستی سرکار کی ہو رہی ہیں۔اجے گنگوار کو کلیکٹر کے عہدے سے ہٹا کر سیکرٹریٹ میں نائب سکریٹری مقرر کیا گیاہے۔پہلے فیس بک پر اجے گنگوار کی اس پوسٹ پر بحث اور اب اس معاملے پر سیاست شروع ہوگئی ہے۔ریاستی وزیر لعل سنگھ آریہ نے بھی اجے گنگوار کی اس پوسٹ پر اعتراض کیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی یہ بات طے مانی جا رہی تھی کہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔لال سنگھ آریہ نے کہا تھا کہ سول سروسز کے اصول و ضوابط اور قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی جانی چاہیے۔ اظہار خیال کی آزادی سب کو ہے لیکن قوانین پر بھی عمل ہونا چاہیے۔خیر۔ملک میں یہ اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔جہاں کسی کی تعریف اور ہجو میں اس طرح کا سلوک کیا گیا ہو۔آپ کو یاد دلا دیں کہ اس سے پہلے ضلع نرسنگھ پور کے کلیکٹر سی بی چکرورتی نےتمل ناڈو میں جے للتا کی جیت پر سوشل میڈیا میں مبارکباد پیش کی تھی۔ لیکن مخالفت کے بعد انھوں نے بھی اپنی پوسٹ کو ہٹا لیا تھا۔خیر۔ملک میں اب کیرل سے لیکر جموں کشمیر تک بی جے پی اور اسکی اتحادی پارٹیوں کی حکومت ہے۔ایسے میں کبھی اظہار خیال کی آزادی۔کبھی نصابی کتابوں میں ترمیم ۔اور کبھی مجاہدین آزادی اور کانگریسی رہنماؤں کے ناموں اور انکے کارناموں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے واقعات سامنے آنا عام سی بات ہوگئی ہے۔ چند روز قبل ہی کی بات ہے کہ ریاست راجستھان میں اسکول کی نصابی کتابوں سے نہرو کا نام حذف کرنے کی خبریں آئی تھیں۔جب میڈیا میں اس طرح کی خبریں آئیں تو بیان جاری کر کے کہا گيا کہ یہ غلطی سے ہوگیا ہے۔ جسے جلد ہی درست کر لیا جائے گا۔ماہرین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی اپنے قائدین کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ کانگریسی رہنماؤں کے نام پر بہت سی اسکیموں کے نام بھی تبدیل کر رہی ہے۔جبکہ اپوزیشن کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ اسے بی جے پی کے رہنماؤں کی تشہیر سے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن اس کے رہنماؤں نے جنگ آزادی میں اہم کردار ادا کیا تھا اور جدید بھارت کی بنیاد رکھی تھی اس لیے انہیں نظر انداز نہیں کیا جا نا چاہیے۔خیر۔اس طرح کی خبروں سے ملک و ریاست کی شبیہ داغ دار ہوتی ہے۔ایسے واقعات پر لگام لگنی چاہئے۔
Thursday, 26 May 2016
کتنا سچا ہے تیرا وعدہ ؟
Narendra Modi Government Completes Two Years In Power
این ڈی اے حکومت اور مودی کی وزرات عظمیٰ کو دو سال مکمل ہوگئے ہیں۔سال دو ہزار چودہ میں چھبیس مئی کے ہی دن مودی نے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف لیا تھا۔وزیر اعظم مودی کے دو سال مکمل ہونے پر سوال یہ اٹھ رہا ہےکہ ان دو برسوں میں مودی حکومت نے کیا پایا اور کیا کھویا؟اور سوال یہ بھی ہے کہ مودی حکومت نے ان دو برسوں میں کتنے وعدے وفا کئے؟سال دو ہزار چودہ میں لوک سبھا انتخابات کے وقت نریندر مودی نے ملک کے عوام سے کئی بڑے بڑے وعدے کئے تھے۔جن میں بیلک منی کو ملک واپس لانا۔بدعنوانی پر لگام کسنا۔مہنگائی پر قابو پانا وغیر وغیرہ۔اور اس وقت مودی نے ملک کے عوام کو ایک نعرہ دیا تھا۔سب کا ساتھ سب کا وکاس۔اقتدار کے دو سال مکمل ہونے پر ۔ بی جے پی نے اپنے جشن کا آغاز یوپی کے سہارنپور سے کیا ہے۔دراصل بی جے پی ۔ سہارنپور ریلی کے ذریعہ ۔ایک تیر سے کئی نشانے سادھنے کی تاک میں ہے۔ایک طرف مرکزی حکومت کا دو سالہ جشن تو دوسری طرف یوپی اسمبلی انتخابات کے لئے بگل بجانا۔اور تیسر ے ۔اس ریلی کے ذریعہ بی جے پی کیڈر کو متحد کر نا اور ایک پلیٹ فارم پر لانا۔خیر۔ان دو برسوں میں مودی حکومت نے جہاں بہت کچھ پایا ہے۔تو وہیں بہت کچھ کھویا بھی ہے۔ایک طرف جہاں ملک کی عوم کو ان دو برسوں میں صرف وعدے اور بیرون ممالک کے سفر ہی ہاتھ لگے ہیں۔تو وہیں عوام اس انتظار میں بھی ہے کہ یہ سرکار ایکشن میں نظر کب آئے گی؟عوام کو انتظار ہے اچھے دنوں کا۔دوسری طرف اپوزیشن مودی حکومت کے ان دو برسوں کو خامیوں سے پر تعبیر کر رہی ہے ۔کانگریس کا کہنا ہے کہ ان دو برسوں میں مودی سرکار نے کہا زیادہ اور کیا کچھ نہیں۔مودی بدعنوانی پر لگام لگانے کی قسم تو کھاتے ہیں ۔پر حقیقت میں وسندھرا راجےسے لیکر رمن سنگھ تک اپنے ہی وزرائے اعلیٰ پر لگ رہے بد عنوانی کے الزامات کو ان دیکھا کرتے ہیں۔انکی پارٹی پاکستان کو سبق سکھانے کی بات تو کرتی ہے۔لیکن مودی اپنی حلف برداری تقریب سے لیکر نوازشریف کی بیٹی کی شادی تک میں ان سے ہاتھ ملاتے دکھتے ہیں۔یعنی جو گجرات کی گدی سے دکھتا تھا۔وہ دہلی کے لال قلعہ سے کچھ اور ہی دکھتا ہے۔ادھر۔مودی سرکار کے ان دو برسوں میں اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں کو بھی مایوسی ہی ہاتھ لگی ہے۔مودی سرکار کی مسلم سماج سے بے رخی اور فرقہ پرستی کو ہو املی یوپی کےدادری واقعہ سے ۔جہاں محض گائے کا گوشت رکھنے کی افواہ پر مشتعل بھیڑ نے ایک مسلم شخص کا بہیمانہ قتل کر دیا ۔اس واقعہ کو لیکر ملک میں عدم رواداری پر ایک نئی بحث چھڑ گئی۔اور ایوارڈ اور اعزاز واپسی کے سلسلے نے مودی حکومت کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔اس کا اثر بہار میں دیکھنے کو ملا۔جہاں بی جے پی کی کراری شکست ہوئی۔خیر۔اب آسام کی جیت نے بی جے پی کے لئے کچھ راحت کا کام کیا ہے۔لیکن،بات پھر اس سرکار کے وعدوں پر آکر رک جاتی ہے۔کہ مودی جی۔اچھے دن کب آئیں گے؟اور اب لوگ پوچھنے لگے ہیں کہ دو ہزار انیس میں کیا ہوگا؟
Subscribe to:
Posts (Atom)


