Wednesday, 20 April 2016
Tuesday, 19 April 2016
پانی کا بحران اور سرکار کی ذمہ داری
Indian cities look to cut heat-wave deaths as water crisis looms
موسم گرما سے لوگوں کا حال بے حال ہے۔شدید دھوپ اورگرم ہواؤں کے تھپیڑوں سے لوگوں کی مشکلیں بڑھی ہیں۔ ملک کے کچھ حصو میں شدید گرمی اور پانی کی قلت نے لوگوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کردیا ہے۔جن ریاستوں میں پینے کے پانی سے ہاہاکارہے ان میں مہاراشٹر۔آندھراپردیش ۔تلنگانہ۔گجرات۔یوپی ۔مدھیہ پردیش ۔راجستھان اور کرناٹک شامل ہیں ۔ خاص کر یوپی مدھیہ پردیش کا بندیل کھنڈ کا علاقہ۔مہاراشٹرکا مراٹھواڑہ اور گجرات کا کچھ سب سے زیادہ متاثر ہیں۔مراٹھواڑہ کے لاتورمیں تو حالات ایسے ہیں۔کہ ندی نالوں اور نلوں کے آس پاس دفعہ ایک سو چوالیس لگانی پڑی ہے۔ملک کی خشک سالی سےمتاثرہ ریاستوں کی حالت زار پر سپریم کورٹ ۔ مرکزی حکومت کو پھٹکار بھی لگا چکا ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے آبزرویشن میں کہا تھا کہ مرکزی سرکار۔ان ریاستوں کی حالت پر آنکھیں نہیں موند سکتی۔اور مرکز کو ان ریاستوں میں خشک سالی سے نمٹنے کے لئے اقدام کرنے ہوں گے۔لیکن ۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ کورٹ کی اس پھٹکار کا مرکزی حکومت پر ۔اثر نہیں ہوا۔یہی وجہ ہے ۔کہ کورٹ کے اتنے سخت آبزرویشن کے بعد بھی حکومت کی طرف سے جو قدم اٹھائے گئے ۔وہ ناکافی ہیں۔ملک کی کئی ریاستوں میں خشک سالی اور لو سے عوام بے حال ہیں۔سوال یہ اٹھتا ہے۔ کہ ان مسائل کا سامنا ہر سال ملک کو کرنا پڑتا ہے۔تو سرکاریں اس مسئلے کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لیتی ہیں؟کہ عوام کی خیر خواہی کا دم بھرنے والی سرکاریں ۔اس اہم مسئلے کی جانب توجہ کیوں نہیں دیتی ہیں؟خاص بات یہ ہیکہ خشک سالی سے سب سے زیادہ ملک کے کسان پریشان ہیں۔کھیتی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔اور ملک کا پیٹ بھرنے والے کسان ہی بھک مری کے سب سے زیادہ شکار ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کسان خودکشی جیسے اقدام پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ہمارے ملک میں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں کسان خود کشی کرتے ہیں۔لیکن۔افسوس کہ پھر بھی ۔ہماری سرکاروں کی آنکھیں بند رہتی ہیں۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان حالات کے لئے اصل ذمہ دار کون ہے؟کیوں کہ اگر ہم نے آج اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا ۔تو آنے والے وقت میں ہماری نسلوں کو اور بھی دقتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس لئے ایسے مسئلے پر سر جوڑ کر بیٹھا جائے۔اور مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جائے۔
Thursday, 7 April 2016
سرینگر این آئی ٹی تنازعہ۔ کشمیری اورغیر کشمیری طلبا کے بیچ کشیدگی
NIT Srinagar Controversy
سری نگر این آئی ٹی کا معاملہ طول پکڑ رہا ہے۔اس معاملے پر تمام پارٹیاں سیاسی روٹیاں بھی سینک رہی ہیں۔نئی نویلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے لئے یہ معاملہ سر مونڈاتے ہی اولے پڑنے جیسا ہے۔حالات اتنے خراب ہیں کہ این آئی ٹی کیمپس میں سی آرپی ایف کو تعینات کرنا پڑا ہے۔خیر، یہ پورا معاملہ شروع ہوا تھا ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ کے سیمی فائنل مقابلے سے۔جہاں ٹیم انڈیا کی شکست کے بعد ۔کشمیری اور نان کشمیری طلبا کے درمیان نعرے بازی ہوئی تھی۔اس کے بعد حالات اور بگڑے تو کیمپس میں پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔جس میں کئی طلبا بری طرح زخمی ہوگئے۔اب اس پورے معاملے نے سیاسی رنگ لے لیا ہے۔تمام پارٹیاں اس معاملے کو بھنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس تنازعہ میں غیر کشمیری طلبا کو جن پریشانیوں کا سامنا ہے۔اسے کون حل کرے گا؟غیر کشمیری طلبا اس معاملے کے بعد اتنا خوف زدہ ہیں کہ انہوں نے این آئی ٹی کیمپس کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔یعنی یہ تنازعہ ایک طرح سے کشمیری اور غیر کشمیر طلبا کے بیچ ایک لائین کھینچ سکتا ہے۔ایسے میں بھارت ماتا کی جے کا تنازعہ ہو یا کوئی دوسرا معاملہ،کشمیر اگر ان ایشوز کا اکھاڑہ بنا تو یہ ملک کے حق میں نہیں ہوگا۔اور این آئی ٹی میں کشمیری اور غیر کشمیری طلبا کے بیچ جھڑپ کے بعدسیاسی پارٹیوں کے ذریعہ اسے سیاسی رنگ دینا،کشمیر سے کھلواڑ کرنے کے برابر ہوگا۔اور خاص کر سرینگر این آئی ٹی میں جھڑپ کے بعد ہندوستان کے دوسرے شہروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کے ساتھ بھید بھاؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ایسے میں اس طرح کے معاملات یا تنازعات کو سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے
Wednesday, 6 April 2016
ملک کی 9 ریاستوں میں خشک سالی پر مرکزی سرکار کو پھٹکارا
SC directs Centre, drought-hit states
موسم گرما سے لوگوں کا حال بے حال ہے۔شدید دھوپ اورگرم ہواؤں کے تھپیڑوں سے لوگوں کی مشکلیں بڑھی ہیں۔ ملک کے کچھ حصو میں شدید گرمی اور پانی کی قلت نے لوگوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کردیا ہے۔جن ریاستوں میں پینے کے پانی سے ہاہاکارہے ان میں مہاراشٹر۔آندھراپردیش ۔تلنگانہ۔گجرات۔یوپی ۔مدھیہ پردیش ۔راجستھان اور کرناٹک شامل ہیں ۔ خاص کر یوپی مدھیہ پردیش کا بندیل کھنڈ کا علاقہ۔مہاراشٹرکا مراٹھواڑہ اور گجرات کا کچھ سب سے زیادہ متاثر ہیں۔مراٹھواڑہ کے لاتورمیں تو حالات ایسے ہیں۔کہ ندی نالوں اور نلوں کے آس پاس دفعہ ایک سو چوالیس لگانی پڑی ہے۔ملک کی خشک سالی سےمتاثرہ ریاستوں کی حالت زار پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو پھٹکار لگائی ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے آبزرویشن میں کہا ہے کہ مرکزی سرکار۔ان ریاستوں کی حالت پر آنکھیں نہیں موند سکتی۔اور مرکز کو ان ریاستوں میں خشک سالی سے نمٹنے کے لئے اقدام کرنے ہوں گے۔خیر۔اب کورٹ کی اس پھٹکار کا مرکزی حکومت پر کتنا اثر ہوتا ہے۔یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔وہیں ۔بامبے ہائی کورٹ نے آئی پی ایل میچ کو لیکر۔پانی کی بربادی پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔کورٹ نے کہا ہے کہ آئی پی ایل کے میچ اہم ہیں۔یا انسانی زندگی؟اس پر بی سی سی آئی نے کہا ہے کہ ۔وہ اس مسئلے پر غور کرے گا۔ملک میں خشک سالی کا مسئلہ کافی پرانہ ہے۔اور گرمیوں میں یہ مسئلہ اور بھی گمبھیر ہوجاتا ہے۔ایسے میں سوال سرکار اور حکومتوں کی پر ہی اٹھتے ہیں۔کہ عوام کی خیر خواہی کا دم بھرنے والی سرکاریں ۔اس اہم مسئلے کی جانب توجہ کیوں نہیں دیتی ہیں؟خشک سالی سے سب سے زیادہ ملک کے کسان پریشان ہیں۔کھیتی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔اور ملک کا پیٹ بھرنے والے کسان ہی بھک مری کے سب سے زیادہ شکار ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کسان خودکشی جیسے اقدام پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ہمارے ملک میں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں کسان خود کشی کرتے ہیں۔لیکن۔افسوس کہ پھر بھی ۔ہماری سرکاروں کی آنکھیں بند رہتی ہیں۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان حالات کے لئے اصل ذمہ دار کون ہے؟
Tuesday, 5 April 2016
دہشت گردی سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں۔امام حرم
Imam-e-Haram visit India
دنیا اس وقت دہشت گردی سمیت مختلف مسائل سے دو چار ہے۔اور خاص کر مسلم ممالک اس دہشت گردی کے سب سے زیادہ شکار ہیں۔ان میں عراق ۔ایران ۔شام ۔پاکستان اور افغانستان ،دہشت گردی سے کافی متاثر ہیں۔ان ممالک کا اثر ہمارے ملک ہندوستان پر بھی پڑ رہا ہے۔اس کے علاوہ ہندوستان جیسے بڑی آبادی والے ملک میں مسلمانوں کے اپنے بھی بہت سے مسائل ہیں۔ ہندوستان کا مسلم طبقہ اپنے ہی مسائل سے دو چار ہے۔چاہے بات مسلکی اختلافات کی ہو یا مکتبہ فکرکی۔ہندوستان کے مسلمان کئی خانوں میں بٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں آپسی اتحاد۔بھائی چارہ بھی ایک لمحہ فکریہ ہے۔ایسے ماحول میں مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے مقصد سے امام حرم شیخ صالح بن محمد ان دنوں ہندوستان کے دورے پر ہیں ۔ امام حرم نے ملک کی کئی ریاستوں کے بڑے اضلاع میں بڑے بڑے اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔امام حرم کی تقریر کا موضوع مسلم مسائل ، جیسے مسلکی اختلافات۔اسلامی تعلیمات اور دہشت گردی کے ارد گرد ہی رہا ہے۔اس دوران امام حرم ہندوستان کی کئی ریاستوں کے بڑے شہروں کا دورہ کر ۔ آپسی اتحاد اور امن و محبت کے پیغام کو عام کر رہے ہیں۔بنگلور۔میسور۔لکھنؤ۔دہلی۔دیوبند اور اب حیدرآباد میں بڑے اجلاس سے خطاب کریں گے۔اپنے خطاب کے دوران امام حرم نے کہا کہ دہشت گردی انسانیت کے لئے سب سے بڑاخطرہ ہے۔اس وقت پوری دنیا میں دہشت گردی کے نام پر اسلام کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہورہی ہے۔انہوں نے امن وامان کے قیام اور استحکام پر زور دیا۔اس کے ساتھ ہی ساتھ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تمام مسالک ومکاتب سے اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام دیا۔امام حرم کے مطابق دہشت گردی سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں اور بے گناہوں کا خون بہانے والے لوگ مسلمان ہوہی نہیں سکتے ۔اسلام امن سکون محبت اور اخوت کا مذہب ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہاکہ تمام مذاہب مسالک نظریات اور مکاتب کے لوگوں کو ایک جُٹ ہوکر دہشت گردی کے خلاف جہاد کرنے اوران لوگوں کو مٹانے کی ضرورت ہے ،جودہشت گردی کے نام پر اسلام کو بدنام کررہے ہیں ۔امام حرم نے کہا کہ جب تمام مسالک کے علماء کرام دہشت گردی کے خلاف ہیں، تو ایسے میں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی کا تعلق اسلام سے ہو ہی نہیں سکتا۔ لہٰذا دہشت گردی کے سانپ کو کچلنے کے لئے شیعہ سنی ہی نہیں بلکہ تمام مکاتب کے لوگوں کو ایک ہوکرکام کرنا چاہئے
Monday, 4 April 2016
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کا معاملہ
Centre not to support Aligarh Muslim University on granting it minority status
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کے معاملہ کو لیکر کئی بار سوال اٹھ چکے ہیں۔ کہ اے ایم ایو اقلیتی ادارہ ہے یا نہیں؟ یہ معاملہ آج پھر سرخیوں میں آیا۔سپریم کورٹ نے مرکز کی این ڈی اے حکومت کو آٹھ ہفتے میں سابقہ یو پی اے حکومت کے ذریعہ داخل کی گئی عرضداشت کو واپس لینے کو کہا ہے ۔مرکزی حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ موجودہ این ڈی اے حکومت ۔اے ایم یو کو اقلیتی ادارہ نہیں مانتی ۔اوروہ خودکو یو پی اے کی عرضداشت سے الگ کرتی ہے۔ اٹارنی جنرل نے اے ایم یو کو غیر اقلیتی ادارہ ثابت کرنے کے لئے ثبوت بھی کورٹ میں پیش کئے۔سپریم کورٹ نے پوری سماعت کے بعد ۔اے ایم یو کی پیروی کر رہے وکیل کو مرکزی حکومت کے موقف پر حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا۔معاملے کی اگلی سماعت ۔گرمیوں کی چھٹی کے بعد ہوگی۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ اے ایم یو کے کردار کو لیکر اب اپوزیشن یا کانگریس کا موقف کیا ہوگا؟۔واضح رہے کہ اقلیتی اسٹیٹس کو لیکر گذشتہ دنوں سپریم کورٹ میں ہوئی سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے اپنی اپیل کو واپس لینے کو کہا تھا۔اس معاملے پر علیگ برادری میں سخت بے چینی دیکھی جارہی تھی ۔جہاں لوگ اسے ایک سوچی سمجھی سازش قرار دے رہے تھے ۔ وہیں طرح طرح کے سوالات بھی کھڑ ے کئے جا رہے تھے۔ کہ آخر اس طرح حکومت کا موقف کیسے تبدیل ہوسکتا ہے ۔اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کے تئیں مودی حکومت کا نظریہ بھی اس وقت سامنے آیا جب اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے سماعت کے دوران حکومت کی طرف سے داخل کی گئی پٹیشن کو واپس لینے کو کہا اور الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے یونیورستی کے خلاف سنائے گئے فیصلے کو جائز قرار دیا ،حالانکہ بی جے پی کی جانب سے لیا گیا یہ فیصلہ حیرت انگیز نہیں تھا۔ کیونکہ اے ایم یو اقلیتی کردار کے مسئلہ پر انکا موقف پہلے سے ہی واضح تھا۔ لیکن تب سوال یہ اٹھا تھا کہ کیا حکومت اپناموقف اچانک اس طرح تبدیل کر سکتی ہے؟ادھرمرکز ی حکومت کے اس یوٹرن نے جہاں علیگ برادری کو ایک بار پھر سے سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ اس مسئلہ کے حل کے لئے نئی حکمت عملی کیا اختیار کی جائے اورآگے کی لڑائی اب سوچ سمجھ کر لڑنی ہوگی ۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا حکومت کے اس موقف نے نئی بحث کا آغاز کردیا ہے کہ حکومت کے زیر انتظام ادارے اقلیتی ادارے کیسے ہوسکتے ہیں؟ پرائیوٹ ادارے یا پھر مدد یافتہ ادارہ کو اقلیتی ادارے ہوسکتے ہیں لیکن حکومت کے زیر انتظام چلنے والے ادارہ کس طرح مائنارٹی ہوسکتے ہیں یہ تو اب سپریم کورٹ کو ہی طے کرنا ہے اقلیتی کردار کی بحالی کا معاملہ جب الہ آباد ہائی کورٹ میں پہنچا تھا وہاں سنگل اور ڈبل دونوں بینچ نے یہ فیصلہ سنایا تھا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اقلیتی ادارہ نہیں ہےاس کے خلاف اے ایم یو انتظامیہ اور مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز جیسے فریقین کی جانب سے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کی گئی تھی لیکن حکومت نے اپنا رخ صاف نہیں کیا تھا ۔بعد میں اے ایم یو کے طلباء قدیم نے وزیر آعظم منموہن سنگھ سے ملکر مطالبہ کیا تھا۔جس کے بعد مرکزی حکومت کی جانب سے بھی پٹیشن داخل کی گئی تھی ۔لیکن اب مرکز کی مودی حکومت نے اپنی پٹیشن واپس لیتے ہوئے کہا ہے کہ اے ایم یو اقلیتی ادارہ نہیں ہوسکتا ۔ ادھرعلی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے اقلیتی کردار کے معاملے میں مرکزی حکومت کے قانونی موقف پر علیگ برادری نے شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔انکے مطابق وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے نمایندگی کے بعد بھی حکومت کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
Friday, 1 April 2016
اس معاملے سے ملک کا سماجی تانا بانہ بگڑے گا؟
Deoband issues fatwa against chanting of 'Bharat Mata ki Jai'
بھارت ماتا کی جے کے نعرے پر اس وقت ملک بھر میں بحث چھڑی ہے۔یہ بحث چھڑی تھی۔آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان سے کہ ملک میں نئی نسل کو ملک سے محبت کا درس دینے کی ضرورت ہے۔موہن بھاگوت نے صلاح دی تھی کہ ملک میں حب الوطنی کے جذبے کے فروغ کے لیے اس نعرے کی ضرورت ہے۔ جسے مسترد کرتے ہوئے اسدالدین اویسی نے کہا تھا کہ وہ بھارت ماتا کی جے نہیں کہیں گے۔چاہے ان کی گردن پر چاقو ہی رکھ دیا جائے۔اس کے بعد یہ معاملہ ملک بھر میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور ہر کوئی وطن پرستی کی تعریف و تشریح کرنے میں لگا ہوا ہے۔خیر۔کچھ ہی دن بعد موہن بھاگوت نےاپنے موقف میں تھوڑی تبدیلی لاتے ہوئے کہا کہ بھارت ماتا کی جے کہنےکے لیے کسی پر دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا ۔ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کو ایک ایسا ملک بنایا جائے جہاں لوگ خود ہی بھارت ماتا کی جے کہیں ۔حالاں کہ اس کے بعد ملک میں کئی ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں ۔جن میں اس نعرے کی حمایت اورمخالفت میں بیان بازی اورجوابی بیان بازی ہوئی اورہورہی ہے۔چاہے وہ مہاراشٹر اسمبلی میں ایم آئی ایم رکن وارث پٹھان کا معاملہ ہو یا دہلی میں مدرسہ طلبا کی پٹائی۔بھارت ماتا نعرے پر بیان بازی وجوابی بیان بازی کے درمیان دارالعلوم دیوبندکا فتوی آیا ہے۔جس کے مطابق بھارت ماتاکی جےمیں دیوی کےتصورات ہیں لہذا بھارت ماتا کی جے بولنا جائز نہیں ہے۔ جمیعت علما ہند نے اس فتویٰ کو درست قراردیاہے۔جبکہ بی جےپی نے فتوی کوغلط بتایاہے۔بی جےپی کےقومی ترجمان ظفراسلام نےکہاکہ اسلام میں بھارت ماتاکی جے بولنادرست ہے۔خیر۔دیوبند نے اپنے فتویٰ کے جواز میں کہا ہے کہ اس معاملے پر اس کے پاس ملک بھر سے سوالات پوچھے جا رہے تھے۔اور لوگوں کے سوال کے جواب میں ہی یہ فتویٰ جاری کیا گیا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جے کہنا عبادت کرنے کے برابر ہے؟اس فتویٰ پر مرکزی وزیر سادھوی نرنجن نے کہا ہے کہ یہ فتویٰ شہیدوں کی بے عزتی ہے۔اور یہ اسلام کی شدت پسندی کو ظاہر کرتا ہے۔تو وہیں دیوبند کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم نے ملک کی آزادی لڑائی لڑی ہے۔ہندوستان زندہ باد کے نعرے لگائے ہیں۔کیا ضرورت ہے کہ اس کو ماتا کہا جائے؟
Subscribe to:
Posts (Atom)