Friday, 29 January 2016





 بان کی مون  نے اسرائیل کو آئینہ دکھایا ہے؟

 Ban Ki-moon calls Israeli settlement expansion an 'affront'

بان کی مون کم مگرناپ تول کربولتے ہیں۔بان کی مون نے فلسطینیوں کی مایوسی کوزبان دی۔ تواسرائیلی وزیراعظم بپھرگئے۔نتن یاہو۔بان کی مون کے بیان پراتنے برہم ہوئے کہ انھوں نے بان کی مون پر دہشت گردو ں کی حوصلہ افزائی کرنے کاسنگین  بہتان لگادیا۔جبکہ بان کی مو ن نے بس اتنا ہی کہا تھا کہ  مایوسی کےشکارافراد کی  طبعیت میں مزاحمت کا درآنا  فطری ہے۔بس کیا تھا بنیامن نتن یاہو کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔انھیں لگا کہ بان کی مون  فلسطینیوں کی حمایت کررہے ہیں۔نتن یاہو نے کہا کہ دہشت گردی کوحق بجانب نہیں قراردیا جاسکتا۔انھوں نے فلسطینیوں کو قاتل قراردیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی ایک مملکت کا قیام نہیں بلکہ ایک مملکت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔اسرائیل جو اقوام متحدہ کی قرارداد کی منظوری کے بعد وجود میں آیا ہے ۔وہ اسی عالمی ادارے کے سکریٹری جنرل پردہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کرنے کا الزام لگا رہا ہے۔اسرائیل جو فلسطینیوں کی زمین کوبےدریغ غصب کررہا ہے وہ حق بات کیسے سن سکتا ہے۔فلسطینیوں کوبےگھر بے در اور بے سروسامانی کی حالت میں لانے کا ذمہ داراسرائیل ۔سازش۔معاندانہ رویے اورحق گوئی کو  کچل کراپنی بات منوانے کے درپے ہے اورعالمی ادارے کوبھی آنکھیں دکھا رہا ہے۔اسرائیل کی پشت پناہی کرنے والے ملکوں کے لئے ہوش کے ناخون لینے کا مقام ہے۔

Thursday, 28 January 2016

یوپی میں چڑھنے لگا انتخابی رنگ؟

What's Brewing In Uttar Pradesh? 

اترپردیش ہمیشہ ہی  ۔ملک میں سیاست کا  محور رہا ہے۔اسی لئے کہا جاتا ہے۔کہ دلی  پر راج کرنا ہے تو یوپی کو مضبوط کرو۔اترپردیش میں اسمبلی انتخابات میں اب ایک سال سے کم کا ہی وقت رہ گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ریاست میں انتخابی رنگ ابھی  سےچڑھنے لگا ہے۔جہاں پارٹیوں نے اپنی حکمت عملی بنانا شروع کر دی ہے۔تو وہیں تمام پارٹیوں کے بڑے لیڈران کے بیانات کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ان دنوں سماج وادی پارٹی سپریمو  ملائم سنگھ  یادو اور بہوجن سماج پارٹی صدرمایاوتی ۔اپنے بیانوں کو لیکر سرخیوں میں ہیں۔خاص کر ملائم سنگھ ۔کارسیوک اور پھر دادری معاملے پربیانات دیکر۔عوام کی توجہ اپنی جانب مبذول  کرا رہے ہیں۔ملائم سنگھ نے  دادری معاملے پر کہا  کہ اس معاملے میں تین بی جے پی لیڈر  مبینہ طور ملوث ہیں  ۔اور اگر وزیراعظم کہیں تو اس کے لئے ثبوت بھی  پیش کردیں گے۔اس بیان کے بعد چہار جانب سے ردعمل اور ریکشن کا سلسلہ شروع ہو گیا۔اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ملائم سنگھ کے اس بیان کے پیچھے سچائی کیا ہے۔کیا ملائم سنگھ ووٹ بینک کی سیاست کر رہے ہیں۔یہ اس کے ذریعہ وہ ایک مخصوص طبقے کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کے بیان میں کتنی سچائی اور دم ہے۔یہ تو وہی جانتے ہیں۔لیکن اس بیان نے یوپی کی سیاست گرما دی ہے۔وہیں آج بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے  پریس کانفرنس کر مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔لکھنؤ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  مایا وتی نے کہا کہ مرکزی حکومت  کی سوچ ذات پات پر مبنی ہے اور دلتوں کا استحصال  کر رہی ہے۔مایا وتی  نے اس موقع پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کو لیکر بھی مرکزی سرکار کی نیت پر سوال اٹھائے۔خیر۔ان دونوں  لیڈران کے بیان اپنی جگہ۔ان  بیانوں سے یوپی کی سیاست گرما گئی ہے۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یوپی پر انتخابی رنگ چڑھنے لگا ہے؟کیا ابھی سے یوپی میں ووٹ بینک کی سیاست شروع ہوگئی ہے؟کیا تمام پارٹیوں کی نظر۔مسلم اور دلت ووٹ بینک پر لگی ہوئی ہے؟

 

Wednesday, 27 January 2016


جدید دور میں خواتین کے ساتھ ایسا سلوک کیوں؟

Shani Temple Dispute Over Women

ہندوستان میں خواتین کے مسائل ہر دور میں رہے ہیں۔کبھی ستی کا مسئلہ تو کبھی  شادی اور طلاق کی بحث اور کبھی مندروں اور عبادت گاہوں میں پوجا پاٹ کو لیکر تکرار۔یعنی سماج میں خواتین کو لیکر ہمیشہ ہی ایک بحث بنی رہتی ہے۔کبھی درگاہوں میں خواتین پرپابندی کی بات کی جاتی ہے ۔تو کبھی مندروں میں داخلے پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔حالیہ  دنوں میں مہاراشٹر کے احمد نگر میں واقع شنی مندر میں پوجا  کو لیکر خواتین شردھالووں اور  مندر انتظامیہ میں ٹھنی ہوئی ہے۔احمد نگر ضلع میں واقع شنی شنگنا پور مندر میں خواتین کے داخلے پر پابندی کو لے کر  ایک بار پھر احتجاج کیا گیا۔منگل کوبھوماتا بریگیڈ کی صدر تپتی دیسائی کی لیڈرشپ میں یہاں خواتین نے جم کر احتجاج کیا اور مندر میں داخل ہونے کی کوشش  کی۔ جبکہ مندر انتظامیہ اور گاؤں والوں نے احتجاجی خواتین کو روکنے کی کوشش کی۔ پہلے سے ہی بڑے پیمانے پر پولیس فورس تیعنات کی گئی تھی۔ہجوم کے آگے بے بس خواتین نےراستے میں احتجاج  کرتے ہوئے بھجن کیرتن شروع کردیا۔واضح رہے کہ  شنی شنگنا پور مندر  میں خواتین کے داخلے پر پابندی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ یہ روایت گزشتہ چار سو سال سے چلی آرہی ہے۔مندر انتظامیہ نہیں چاہتی کہ خواتین مندر میں داخل ہوں اور پوجا کریں۔واضح رہے کہ نومبر ماہ میں ایک خاتون   شنی مندر میں داخل ہوگئی تھی۔جس پر کافی ہنگامہ ہوا تھا۔اور بعد میں مندر کے پجاریوں نے اس مندر کی دودھ اور تیل سے شدھی  کی تھی۔ادھر  معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے خواتین کی مندر میں داخلے اور پوجا کی حمایت کی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ  اس معاملے کو بات چیت سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ادھر ۔بھوماتا برگیڈ کی خواتین بھی  اس معاملے پر بات چیت کے لئے تیار ہیں۔لیکن سوال یہ اٹھتا ہے۔کہ ترقی کے اس دور میں بھی خواتین کے ساتھ یہ سلو ک کیوں ہے؟کیا خواتین کو ہر مذہبی جگہ پر عبادت کا حق ملنا چاہئے؟کیا خواتین کو بھی مردوں کے مقابلے اصل دھارے میں لانے کی ضرورت ہے؟سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ جب سماج کے ہر حصے میں خواتین ۔مردوں کے مقابلے شانہ بشانہ کھڑی  ہو سکتی ہیں۔تو پھر مندروں اور عبادت گاہوں میں پوجا اور درشن کو لیکر واویلا مچانے کی ضرورت کیا ہے؟یہ معاملہ صرف مہاراشٹر اور شنی مندر کا ہی نہیں ہے۔ایسی ہی خبر چھتیس گڑھ کےرائے پور سے بھی آئی ہے۔جہاں   ایک مندر میں خواتین کے داخلے پر  پابندی عائد ہے۔یعنی  اس طرح کے مسائل سے خواتین ملک کے کئی حصوں میں  گذر رہی ہیں۔اس پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے 

Tuesday, 26 January 2016

ہمیں منزل ملی یا ہم ہنوزسفر پر ہیں؟

 India celebrates 67th Republic Day 

ملک آج اپنا سڑسٹھواں یوم جمہوریہ منا رہا ہے۔قومی راجدھانی  دہلی میں شاندار تقریب منعقد ہوئی۔پورا ملک جشن میں ڈوبا ہے۔ہمارا ملک ہندوستان اگرچہ   پندرہ  اگست  انیس سو سینتالیس کو برطانوی تسلط سے آزاد ہو گیا تھا، لیکن  اسے اپنا  آئین  آج ہی کے دن  سن  انیس سو پچاس  کوملا۔اس اعتبار سے  یوم آزادی کے بعد  آزادہندوستان کی تاریخ میں چھبیس جنوری  انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سوراج کی جانب  یہ ایک  اہم اور بڑاقدم تھا۔جس کاخواب ہمارے رہنماؤں نے دیکھا تھا ۔اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا قید و بند کی صعبوتیں جھلیں   اورخون جگر سے  اس  گلستاں کی آبیاری ہوئی۔  ہمارا  دنیا کے مختلف ممالک کے آئین  کی خصوصیات کا مجموعہ ہے۔ آئین کی تمہید کا آغاز ہی وی دا پیپل سے ہوتا ہے۔آئین نے  شہریوں کو خود کئی حقوق دیئے ہیں۔ان میں سب سے بڑا حق  حکومت چننے کا حق ہے۔یعنی عوام کے لیے عوام کے ذریعہ  چنی ہوگئی سرکار۔دستور نے پارلیمانی طرزکی جمہوریت کے سامنے کابینہ کواپنے فیصلے، قانون سازی اور اپنی پالیسی کے لیے جوابدہ بنایا ہے اور تمام باشندے بلاتفریق مذہب و ملت ’’ایک مشترکہ جمہوریت‘‘ میں پرو دیے گئے ہیں۔ دستورکی 42 ویں ترمیم کی روسے اسے سیکولر اسٹیٹ کہا گیا ہے، جہاں ہر مذہب کا احترام ہوگا اور مذہب کی بنیاد پر کسی قسم کا کوئی امتیازی سلوک نہیں کیاجائے گا۔ مذہب یا ذات پات کی بنیاد پر کسی شہری کو شہریت کے حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا ۔ آئین کی رو سے ہر ہندوستانی قانون کی نگاہ میں برابر ہے۔ ہر شہری کو   اظہار رائے کی آزادی  ہے۔ اقلیتوں کو بھی دستور میں ان کا حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنے علیحدہ تعلیمی ادارے قائم کریں، اپنی شناخت وتشخص کو قائم رکھیں ۔ ملک کی کثرت میں وحدت  کی بقا اور جمہوری اقدارکے فروغ کے لیے یہ اصول کافی ہیں، لیکن زمینی حقیقت اس سلسلہ میں ہمیں کچھ اور سوچنے پر مجبور کرتی ہے اور ہمارے ذہن میں یہ سوال پیدا کرتی ہے کہ ان قوانین کا کتنا احترام کیا جا رہا ہے؟ قانون کی بالادستی ہے یادستورکی پامالی؟ قانون کی حکمرانی ہے یاقانون بے چارہ؟
’’مثالی جمہوری ملک‘‘ بنانے کے لیے مثبت فکر کے ساتھ  ہمیں بہ حیثت  ہندوستانی  مزید اور کیا اور کس سمت میں کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ پالیسیاں اور قوانین، آسانیاں پیدا کرنے کے لیے بنائی جائیں، نہ کہ دشواریاں پیدا کرنے کے لیے۔ قانون کی بالادستی ہو، اس کا احترام  سبھی کے دلوں میں ہو، قانون سازی کے ساتھ ساتھ اس کے نفاذ کے لیے بھی سختی کی جائے  اور جمہوری قدروں کوفروغ دیاجائے، تبھی عوام کے دلوں میں ان  جمہوری اداروں کا وقار پھر سے بحال ہو سکے گا، ورنہ جمہوریت پسند ہونے کا دعویٰ بے معنیٰ ہوگا۔


Monday, 25 January 2016

مسلم نوجوانوں کی گرفتاری سے مسلم  طبقے میں بے چینی

NIA arrests suspected Islamic State


ملک کے مختلف حصوں سے مسلم نوجوانوں  کوآئی ایس اور القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزام میں گرفتاریوں  کا سلسلہ جاری ہے۔ان گرفتاریوں سے ملک کامسلم طبقہ بے چین اور پریشان ہے۔زیادہ تر گرفتاریاں۔سوشل میڈیا کے  فعال رہنے کی وجہ سے عمل میں آئی ہیں -  اس معاملے کو لیکر اب مسلم مذہبی اور سیاسی رہنما کئی سوال کھڑے کر رہے ہیں ۔مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پہلے بھی مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں ہوتی رہیں ہیں۔ لیکن حال کے دنوں میں جس طرح سے ایک کے بعد ایک گرفتاری ہوئی ہے اس سے ملک کے مسلمان بیچین ہیں۔ملک کےمختلف مقامات پر ہوئی مشتبہ افراد کی گرفتاریوں کے مسئلےپرسابق مرکزی وزیرسی کے جعفرشریف نے وزیراعظم نریندرمودی کو خط لکھا ہے۔ جعفرشریف نےکہاہےکہ اقلیتی طبقہ دہشت گردوں یا دہشت گردی کی ہرگزتائیدنہیں کرتا۔ لیکن شک وشبہات کی بنیاد پرہورہی گرفتاریوں سے اقلیتی طبقہ پریشان ہے۔ اوراس طبقے کا حوصلہ پست ہورہاہے۔واضح رہے کہ این آئی اےنے کاروائی کرتے ہوئے ملک کی مختلف ریاستو ں میں مشتبہ دہشت گروں کو گرفتارکیاہے۔ان گرفتاریوں کے بعد اقلیتی طبقہ تشویش کا اظہار کررہاہے۔جعفرشریف نے کہاکہ  ملک اور ملک کے عوام کی حفاظت کرنااین آئی اے کی ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری کواین آئی اے بخوبی انجام دے رہی ہے۔دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے اصل مجرموں تک پہونچناضروری ہے۔ لیکن شک وشبہات کی بنیاد پرگرفتاریاں ایک مخصوص طبقے کیلئے پریشانی کا سبب بن گئی ہیں۔ادھراترا کھنڈ کے روڑکی کے مدرسوں میں موبائل فونس کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔ احکامات کی خلاف ورزی پر تادیبی کاروائی کی جارہی ہے۔حال ہی میں آئی ایس سے روابط کے شبے میں کچھ مسلم لڑکوں کی گرفتاری کے بعد یہ قدم  اٹھایا گیا ہے۔ گرفتار افراد پر سوشیل میڈیا کے غلط استعمال کا الزام ہے این آئی اے کے ملک گیر کریک ڈاؤن کے دوران آئی ایس تنظیم سے روابط کے الزام میں گرفتار یوں کے بعد مدرسوں میں خوف و دہشت کا ماحول ہے۔ نوجوان مسلم بچوں کو موبائیل فونس  سے دور رکھنے پر زور دیا جارہا ہے۔ مدارس میں موبائل فون پر پابندی کا سختی سے نفاذ کیا جارہا ہے۔ اس پیشرفت پر مختلف حلقوں میں ملا جلا رد عمل دیکھا جارہا ہے۔ زیادہ تر افراد اپنے بچوں کے مستقبل کو لیکر کافی تشویش میں مبتلاء ہیں اور بیشتر موبائل پر پابندی کی تجویز پر راضی ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے سے جدید دنیا کی حقیقت سے محروم مدرسوں کے طلباء پر موبائل کی پابندی عائد کرنے کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں ۔ طلباء کے استحصال کا بھی خدشہ ہے۔نوجوانوں کی گرفتاریوں کے معاملے کو لے کر مسلم سیاسی لیڈر بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ ملک کے وزیر داخلہ کہتے ہیں  کہ ہندوستانی مسلمانوں میں آئی ایس کو لے کر کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔لیکن ایک کے بعد ایک مسلمانوں کو اسی الزام میں گرفتار کیا جا رہا ہے،ایسی گرفتاریاں پہلی بار نہیں ہوئیں ہیں  ، بلکہ سالوں سے ایسا ہوتا رہا ہے، لیکن ایسے نوجوانوں کی بھی کمی نہیں جنہیں دہشت گردی کے شک میں گرفتار تو کیا جاتا ہے لیکن سالوں بعد عدالت میں وہ بےقصور ثابت ہو جاتے ہیں - ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ ، سالوں جیل میں گزارنےکے بعد ایسے افرادکی زندگی برباد ہوچکی ہوتی ہے۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان کا ماضی کون لوٹائے گا؟

Tuesday, 19 January 2016

وطن میں ہی بے وطن ہیں کشمیری پنڈت

Kashmiri Pandit :26 years of exile

 وادی کشمیر دلفریب نظاروں۔خوشنما موسم کے لئے جانی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کشمیر کو زمین پر جنت کا درجہ حاصل ہے۔اس سے بڑھ کر وادی کشمیر اپنی روایت۔بھائی چارے اورخاص کر کشمیریت کے لئے جانی جاتی ہے۔کشمیر میں اکثریت اور اقلیت دونوں طبقوں کے لوگ ساتھ ساتھ رہتے تھے۔لیکن کشمیر کی ان خوبیوں کواس وقت ۔ کسی کی بری نظر لگ گئی۔جب انیس سو نوے میں جنوری  ماہ میں کشمیری پنڈتوں پر  مظالم کا ایک پہاڑ ٹوٹا۔کشمیر میں پنپ رہی دہشت گردی اور ملی ٹنسی نے پنڈت برادری کو پریشان کرنا شروع کر دیا ۔اور انیس سو نوے  کے جنوری ماہ میں تین لاکھ سے زیادہ کشمیری پنڈتوں کو اپنا گھر بار۔مال مویشی۔کھیت کھلیان۔زندگی بھر کی کمائی ہوئی دولت ۔سب چھوڑچھاڑ کر راتوں رات ۔وادی کو چھوڑ کر نکلنا پڑا۔ملی ٹنٹوں نے باقاعدہ اعلان کر دیا کہ کشمیر میں رہنا ہے۔تو انکی شرائط پر ہی زندگی گذارنی ہوگی۔یعنی ملی ٹنٹوں نے ایک طرح سے کشمیری پنڈتوں پر زندگی تنگ کر دی تھی۔اسی سال کشمیر میں کئی پنڈتوں کے بہیمانہ قتل بھی کئے گئے۔گھر جلا دیئے گئے۔ان کو خوفزدہ اور ہراساں کر کے وادی چھوڑنے پر مجبور کیا گیا ۔خیر۔کشمیری پنڈتوں کو اپنا وطن۔اپنا گھر ۔اور اپنی زمین چھوڑے ہوئے  چھبیس سال مکمل ہوگئے ہیں۔لیکن ان  چھبیس سالوںمیں ان لوگوں کو کس درد و کرب سے گذرنا پڑا رہا ہے۔اس جانب کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔اور ان کے نام پر ملک اور ریاست میں صرف سیاست ہی ہو رہی ہے۔ان سے انتخابات میں بڑے بڑے وعدے تو کئے جاتے ہیں۔پر یہ وعدے کبھی وفا نہیں ہوتے ہیں۔ان کے مسائل کی طرف کسی بھی حکومت نے دھیان نہیں دیا۔



Monday, 18 January 2016


روہت کی خود کشی ۔کیا یہ اپر اور لوور کاسٹ  سیاست کا نتیجہ ہے؟

Dalit student commits suicide

یونیورسٹی طلبا کے مسائل ہر دور میں رہے ہیں۔اور خاص کر پچھڑے۔دلت اور کمزور طبقوں سے آنے والے طالب علموں   کے ساتھ  امتیازی سلوک  حتی کے تشدد کی خبریں سرخیوں میں آتی ہیں۔اتوارکے روز حیدرآباد یونیورسٹی میں ایک دلت طالب علم  نے یونیورسٹی کے ہاسٹل میں ہی پھانسی لگا کر خوکشی کر لی۔اس دل دہلا دینے والے واقعے پر کئی طرح کے سوال  اٹھ رہے ہیں۔یاد رہے کہ خود کشی کرنے والے طالب علم  روہت کو یونیورسٹی انتظامیہ نے ہاسٹل سے باہر نکال دیا تھا۔جس کے بعد سے ہی روہت تنبو لگا کر کیمپس کے باہر ہی رہ رہا تھا۔روہت اور اسکے چار ساتھیوں پر ہاسٹل میں داخل ہونے پر  پابندی عائد کردی گئی تھی ۔ در اصل روہت اور اسکے چار ساتھی  امبیڈکر یونین کے ممبر  تھے۔جن پر بی جے پی کی اسٹوڈنٹ ونگ اے بی وی پی کے ایک ممبر پر حملہ کرنے کا الزام تھا۔حالاں کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے روہت سمیت پانچوں  اسکالرس کو ابتدائی جانچ کے بعد بے قصور قرار دیا تھا۔لیکن بعد میں جب مرکزی وزیر بنڈارو دتا تریہ نے مرکزی وزیربرائے فروغ انسانی وسائل  اسمرتی ایرانی کو خط لکھا۔تو انتظامیہ نے اپنا فیصلہ پلٹ دیا تھا۔خیر۔اب اس معاملے کو لیکر کئی طرح کی باتیں گشت کررہی ہیں ۔سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا یونیورسٹی میں دلت طلبا کو ذات پات اور اگڑے پچھڑے کی بنیاد پر یشان کیا جا تا ہے؟کیا یونیورسٹی انتظامیہ اس کے لئے ذمہ دار ہے؟سوال اس لئے بھی اٹھنا لازمی ہیں کیوں کہ اس طرح کا معاملہ دلت طلبا کے ساتھ نیا نہیں ہے۔اس سے پہلے تمل ناڈو میں  دلت اسٹوڈنٹس کی ایک تنظیم پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔اسی طرح کانپور میں بھی ایک انسٹی ٹیوشن میں ایک دلت نے اپر کاسٹ کے طلبا کے ذریعہ پریشان کئے جانے کے بعد خود کشی  کر لی تھی۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا پاٹھ شالہ میں بھی سیاست سرایت کر رہی ہے۔؟ اب اس معاملے کو لیکر سیاست بھی گرما رہی ہے۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور مرکزی وزیر  بنڈارو دتا تریہ کے خلاف ایس سی ایس ٹی کے تحت معاملہ درج کر لیا گیا ہے۔اس معاملے کو لیکر دہلی میں مرکزی وزیر تعلیم اسمرتی ایرانی کے گھر کے باہر بھی طلبا نے احتجاج کیا۔اس کے علاوہ ملک کے کئی حصوں میں اس معاملے کو لیکرطلبا میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ادھر۔ایچ آر ڈی منسٹری نے اس معاملے کو لیکر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بھی بنانے کی بات کہی ہے۔