Friday, 29 April 2016
Thursday, 28 April 2016
حاجی علی میں خواتین کو داخلہ ملنا چاہیئے؟
Women Fight Against Ban at Mumbai's Haji Ali Dargah
ہندوستان میں خواتین کے مسائل ہر دور میں رہے ہیں۔کبھی ستی کا مسئلہ تو کبھی شادی اور طلاق کی بحث اور کبھی درگاہوں ۔مندروں اور عبادت گاہوں میں پوجا پاٹ اور عبادت کو لیکر تکرار۔یعنی سماج میں خواتین کو لیکر ہمیشہ ہی ایک بحث بنی رہتی ہے۔کبھی درگاہوں میں خواتین پرپابندی کی بات کی جاتی ہے ۔تو کبھی مندروں میں داخلے پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔حالیہ دنوں میں ممبئی کی حاجی علی درگاہ پر خواتین کے داخلے پر جاری پابندی کو لیکر پھر آواز اٹھی ہے۔اس بار یہ آواز اٹھائی ہے۔بھوماتا برگیڈ کی ترپتی دیسائی نے ۔ترپتی نے حاجی علی درگاہ میں خواتین کے داخلے کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔آج ترپتی دیسائی اپنی حامیوں کے ہمراہ حاجی علی درگاہ پہنچیں ۔لیکن انتظامیہ نے ترپتی دیسائی کو کار سے اترنے نہیں دیا۔ترپتی درگاہ میں داخل ہو کر مزار پر چادر چڑھانے کی کوشش کر رہی تھیں ۔اس بیچ درگاہ کے باہر ۔ترپتی دیسائی کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا۔دراصل درگاہ انتظامیہ نے ٹھان رکھا تھا کہ خواتین کو درگاہ کی اس جگہ نہیں جانے دیا جائے گا۔جہاں پر پابندی عائد ہے۔ادھر تنازعہ بڑھتے دیکھ ۔انتظامیہ نے درگاہ کے اردگرد سخت سیکورٹی انتظامات کر دیئے تھے۔خیر۔اس معاملے پر لوگوں اور مختلف تنظیموں کی رائے بٹی ہوئی ہیں۔کسی کا کہنا ہے کہ مزاروں پر خواتین کا جانا حرام ہے ۔تو کسی کا کہنا ہے کہ اگر خواتین قبرستان اور مزاروں پر جاتی ہیں۔تو وہ خود اس کی ذمہ دار ہوں گی۔کچھ علما کا کہنا ہے کہ کسی بھی عبادت گاہ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم وہاں جا کر سکون حاصل کریں ۔نہ کہ درگاہوں اور عبادت گاہوں پر سیاست کی جائے۔بعض لوگوں نے کہا کہ اس طرح کے معاملات سے مذہبوں کے درمیان ٹکراؤ بڑھے گا۔کچھ لوگوں نے تو یہاں تک سوال اٹھائے ہیں کہ ترپتی دیسائی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔اسے بھی سمجھنے کی کوشش کی جائے۔کیوں کی یہ پورا معاملہ سستی شہرت سے جڑا ہوا ہے۔خیر۔ان سب سے ہٹ کر۔۔سوال یہ اٹھتا ہے۔کہ ترقی کے اس دور میں بھی خواتین کے ساتھ یہ سلو ک کیوں ہے؟کیا خواتین کو ہر مذہبی جگہ پر عبادت کا حق ملنا چاہئے؟کیا خواتین کو بھی مردوں کے مقابلے اصل دھارے میں لانے کی ضرورت ہے؟سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ جب سماج کے ہر حصے میں خواتین ۔مردوں کے مقابلے شانہ بشانہ کھڑی ہو سکتی ہیں۔تو پھر درگاہوں اور عبادت گاہوں میں عبادت اور پوجا کو لیکر واویلا مچانے کی ضرورت کیا ہے؟یہ معاملہ صرف مہاراشٹر اور حاجی علی درگاہ کا ہی نہیں ہے۔ایسی ہی خبر ملک کے کئی حصوں سے آتی رہتی ہیں۔جہاں عبادت گاہوں میں خواتین کے داخلے پر پابندی عائد ہے۔یعنی اس طرح کے مسائل سے خواتین ملک کے کئی حصوں میں گذر رہی ہیں۔اس پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔
Wednesday, 27 April 2016
سپریم کورٹ نےمرکز سے پوچھے سات سوال
President's rule to continue in Uttarakhand, no floor test on April 29
اتراکھنڈ کا سیاسی بحران ابھی تھما نہیں ہے۔اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے بعد ۔اب سپریم کورٹ میں سنوائی جاری ہے۔آج سپریم کورٹ میں پھر اتراکھنڈ سیاسی بحران پر سنوائی ہوئی ۔سپریم کورٹ انتیس اپریل کو ہونے والے فلور ٹسٹ کو فی الحال روک دیا ہے۔اور ریاست میں صدر راج لاگو رہے گا۔اس بیچ کورٹ نے مرکزی حکومت سے سات سوال کئے ہیں۔اب مانا یہ جا رہا ہے کہ ان سارے سوالوں کے جواب کے لئے معاملے کو آئینی بینچ کو بھیجا جا سکتا ہے۔پچھلی سنوائی میں ۔مرکز کی عرضی پر سپریم کورٹ نے ستائیس اپریل یعنی آج تک اتراکھنڈ میں صدر راج کا حکم دیا تھا۔خاص بات یہ ہے کہ آج ہی ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ ہریش راوت کا جنم دن ہے ۔اور راوت کو امید تھی کہ سپریم کورٹ آ ج انہیں ۔ریاست کی سرکار تحفے میں دے دیگا۔خیر۔اتراکھنڈ سیاسی بحران کا معاملہ ۔پارلیمنٹ میں بھی گونج رہا ہے۔اس معاملے کو لیکر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بی جے پی اور کانگریس آمنے سامنے ہیں۔کورٹ نے مرکز سے سوال کیا ہے کہ کن حالات میں ریاست میں ۔صدر راج لگایا گیا؟آج کورٹ نے ایک تبصرے میں کہا کہ اسپیکر ۔سدن کا ماسٹر ہوتا ہے۔ اس سے پہلے بائیس اپریل کو سپریم کورٹ میں ہوئی سماعت میں کورٹ نے نینی تال ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگا دی تھی۔جبکہ سپریم کورٹ سے پہلے اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں مرکزی سرکار کو بڑا جھٹکا دیا تھا۔کورٹ نے ریاست میں صدر راج ہٹا دیا تھا۔اور ہریش راوت کو انتیس اپریل کو اکثریت ثابت کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ستائیس مارچ کو ریاست میں لگائے گئے صدر راج کے بعد سے ہی ۔بی جے پی اور کانگریس ۔عدالت کے ذریعہ اس معاملے کا حل تلاش کر رہی ہیں۔ ہائی کورٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے مرکزی سرکار سے کہا کہ اتراکھنڈ اسمبلی کو معطل کرنے کے صدر جمہوریہ کے فیصلے کی معقولیت عدالتی ریویوکا موضوع ہے اورصدرجمہوریہ سے بھی غلطی ہوسکتی ہے۔واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی اتراکھنڈ کے سیاسی بحران پر نینی تال ہائی کورٹ نے ریاست میں صدر راج پر روک لگا دی تھی۔اور اکتیس مارچ کو ایوان میں وزیر اعلیٰ ہریش راوت کو اکثریت ثابت کرنے کو کہا گیاتھا۔لیکن اکتیس مارچ سے پہلے ہی مرکزی سرکار نے اس معاملے پر کورٹ میں چیلنج کردیا۔اور تب سے ہی اتراکھنڈ کا سیاسی بحران جوں کا توں بنا ہوا ہے۔اور کل ملا کر کہا جا سکتا ہے کہ اتراکھنڈ کا بحران ابھی تھما نہیں ہے۔۔خیر۔اب آئیے ایک نظر اتراکھنڈ کی موجودہ اسمبلی ارکان کی صورتحال پر ڈال لیتے ہیں۔اتراکھنڈ اسمبلی کے کل اکہتر ممبران اسمبلی میں کانگریس کے 36 ممبران اسمبلی تھے جن میں سے نو باغی ہو چکے ہیں۔ بی جے پی کے 28 ممبران اسمبلی ہیں جن میں سے ایک معطل ہے۔ بی ایس پی کے دو، آزاد امیدوار تین اور ایک رکن اسمبلی اتراکھنڈ کرانتی پارٹی کا ہے۔اب دیکھنا یہ دلچسپ ہوگا کہ ،اتراکھنڈ کی سیاست کا رخ کیا ہوگا؟
Tuesday, 26 April 2016
عدالتیں دینی معاملات میں مداخلت کو لیکر حد پار کر رہی ہیں؟
Why Court interfere in Islamic Religious law?
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے ۔جہاں تمام مذاہب کو یکساں حقوق دیئے گئے ہیں ۔ہر مذہب کا ماننے والا اپنے مذہب کی بنیاد پر ملک میں زندگی گذار سکتا ہے۔ہر کسی کو اپنے مذہب کے معاملے میں پوری آزادی حاصل ہے۔حتیٰ کہ ہندوستان میں ہر مذہب کا اپنا قانون ہے۔جس پر تمامذاہب کے ماننے والے مذہبی اصول و ضوابط پر اپنی زندگی گذار سکتے ہیں۔تمام مذاہب کی طرح ہی مسلم سماج بھی اپنے مذہب اور عقیدے کے اعتبار سے ملک میں اپنی زندگی گذار رہے ہیں۔اور مسلمانوں کا اپنا پرسنل لا بورڈ بھی ہے۔امکانی خارجی یورش سے مذہبی اصولوں یا عائلی ضابطوں کے تحفظ کے لئے ہی مسلم پر سنل لا بورڈ کی داغ بیل ڈالی گئی تھی۔جو مذہبی معاملات میں مسلمانوں کی پوری راہنمائی کرتا ہے۔حالیہ کچھ برسوں میں ملک کے سیاسی و سماجی حالات بہت حد تک بدلے ہیں۔اور ان بدلے حالات کا مسلم سماج پر بھی اثر پڑا ہے۔ملک کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ نے حالیہ دنوں مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی کی ہے۔چاہے وہ اسلام میں تین طلاق کا معاملہ ہو یا مسلم خواتین کا درگاہوں اور عبادت گاہوں میں داخلے کا معاملہ ۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ سپریم کورٹ مذہبی معاملات میں دخل اندازی کیوں کر رہا ہے؟کیا واقعی یہ وقت کی ضرورت ہے یا پھر کورٹ کی یہ مداخلت بیجا ہے۔دینی معاملات میں عدالتوں کے دخل پر ایک بحث چھڑی ہوئی ہے۔سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا مسلمانوں کو ملے فنڈا منٹل رائٹس کو چیلنج کیا جا رہا ہے؟ اور سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا عدالتیں اور کورٹ ۔آئین کے آگے جا سکتا ہے؟اور اب تو یہ بھی سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا آئین میں مسلمانوں کو جو حقوق دیئے گئے ہیں ۔کیا ان میں بھی خطرات منڈلا رہے ہیں؟یا واقعی ہماری عدالتیں ۔دینی معاملات میں مداخلت کو لیکر حد پار کر رہی ہیں۔آپ کو یاد دلادیں کہ کچھ ماہ قبل ہی سپریم کورٹ نے مسلم پرسنل لا کی جا نچ کرنے کی بات کہی تھی۔جسٹس انل آر دوے اور جسٹس اے کے گوئل کی بینچ نے کہا ہے کہ من مانے طریقے سے دی جانے والی طلاق اور دوسری شادی کے عمل نے مسلم خواتین سے انکا تحفظ چھین لیا ہے۔بنچ نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ جب آئین میں سب کو برابری کا حق دیا گیا ہے۔تو مسلم خواتین کے ساتھ امتیاز کیوں ہو رہا ہے۔کورٹ نے اس معاملے پر مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ایسے طریقوں کی تجویذ دے ۔جس سے کہ مسلم خواتین کو بھی دوسرے مذاہب کی خواتین کے برابر حق مل سکے۔اورمسلم خواتین کے ساتھ وہی برتاؤ ہو جو دوسرے مذاہب میں ہوتا ہے۔خیر۔مسلم پرسنل لا پر کورٹ کی اس تجویذ کو لیکر بحث بھی تیز ہوگئی ہے۔آپ کو یاد دلا دیں کہ ماضی میں اسی نوعیت کے شاہ بانو کیس میں بھی کورٹ کے عمل دخل سے مسلم پر سنل لا اور کورٹ کے فیصلے کو لیکر بحث چھڑ چکی ہے۔
Monday, 25 April 2016
انصاف ملنے میں دیر ہوئی؟
Malegaon Blast : Charges Dropped Against 9 Muslim Men
دوہزار چھ مالیگاؤں بم دھماکہ معاملے میں آخر کا دس سال کے طویل انتظار کے نو ملزمین کو انصاف ملا ہے۔ممبئی کی مکوکہ کورٹ نے نو ملزمین کو بری کر دیا ہے۔یہ ملزمین پہلے ہی پانچ سال جیل میں گزار چکے ہیں۔بعد میں ان لوگوں کو ضمانت مل گئی تھی۔واضح رہے کہ دو ہزار چھ بم دھماکہ معالملے میں تیرہ لوگوں کو ملزم بنایا گیا تھا۔لیکن ان میں سے نو لوگوں کو ہی گرفتار کیا جا سکا تھا۔جبکہ چار ملزمین آج تک فرار ہیں۔ان ملزمین کو سیمی سے جڑا بتایا گیا تھا۔آپ کو بتا دیں کہ آٹھ ستمبر دو ہزار چھ کو کو مالیگاؤں میں کل چار دھماکے ہوئے تھے۔تین دھماکے حمیدیہ مسجد میں اور ایک مشاورت چوک میں ۔ان دھماکوں میں اکتیس لوگوں کی موت ہوئی تھی۔اور تقریبا تین سو بارہ لوگ زخمی ہوئے تھے۔جانچ ایجنسی اے ٹی ایس نے کل تیرہ لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا تھا۔اور مکوکہ کے تحت کیس درج کیا تھا۔اے ٹی ایس نے معاملے میں ایک ملزم کو سرکاری گواہ بھی بنایا تھا۔لیکن وہ بعد میں مکر گیا تھا۔تو ادھر اے ٹی ایس کی جانچ پر سوال اٹھانے پر معاملہ ۔سی بی آئی کے حوالے کیا گیا تھا۔سی بی آئی نے بھی اے ٹی ایس کی کہانی کو آگے بڑھاتے ہوئے گیارہ فروری دو ہزار دس کو سبھی نو ملزمین کے خلاف سپلیمنٹری چارج شیٹ دائر کی تھی۔اس بیچ اے ٹی ایس کی جانچ میں ابھینو بھارت تنظیم کا نام سامنے آیا تھا۔اس معاملے میں سوامی اسیمانند۔کرنل پروہت۔اور سادھوی پرگیا کو گرفتار کیا گیا تھا۔اس معاملے کی جانچ ابھی بھی چل رہی ہے۔اسیما نند نے اپنے اقبالیہ بیان مین سنیل جوشی کا نام لیا تھا۔خیر۔مالیگاؤں دھماکہ معاملے میں اس اینگل پر جانچ جاری ہے۔لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ آج بری ہوئے ملزمین کو کیا ناصاف ملنے میں بہت دیر ہوئی ہے؟ اور سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ ان لوگوں کا قیمتی وقت جو جیلوں میں گزرا ہے۔اس کی بھرپائی کون کرے گا؟ یا سماج سے الگ تھلگ ہوئے ان افراد کو کیا اب سماج میں وہی پہچان مل پائے گی؟سوال یہ بھی ہے کہ کیا ان لوگوں کے خلاف کاروائی نہ ہو ۔ ایسے بے قصور افراد کو ملزم بنانے کے قصوار ہیں؟
Thursday, 21 April 2016
اتراکھنڈ میں صدرراج ہٹا
Uttarakhand crisis : HC slams Centre
اتراکھنڈ کا سیاسی بحران اب تھمتا نظر آرہا ہے۔اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں مرکزی سرکار کو بڑا جھٹکا دیا ہے۔کورٹ نے ریاست میں صدر راج ہٹا دیا ہے۔اب ہریش راوت کو انتیس اپریل کو اکثریت ثابت کرنا ہوگی۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے راوت نے کہا کہ ہم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔کانگریس نے کورٹ کے فیصلے کے بعد بی جے پی اور مرکزی سرکار پر حملہ بولا ہے۔کانگریس نے کہا کہ بی جے پی معافی مانگے۔ادھر۔بی جے پی کا کہنا ہے کہ کورٹ کا یہ فیصلہ متوقع تھا۔اس فیصلے سے کوئی حیرانی نہیں ہوئی۔وہیں ۔بی جے پی نے کہا ہے کہ سنٹرل گورمنٹ اس معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔خیر۔ان سب کے بیچ ۔اب اتراکھنڈ میں حکومت سازی کو لیکر سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔جہاں ہریش راوت نے دعویٰ کیا ہے کہ کانگریس اتراکھنڈ میں حکومت تشکیل دے رہی ہے۔اور انکے پاس ارکان اسمبلی کی تعداد اکثریت ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔جبکہ اتراکھنڈ بی جے پی کے انچارج کیلاش وجے ورگیہ بھی ۔اکثریت کو لیکر پر عزم ہیں۔ انہوں نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ بی جے پی اتراکھنڈ میں حکومت تشکیل دے گی۔ان سب کے بیچ کورٹ نے باغی ارکان اسمبلی پر سخت تبصرہ کیا ہے۔کورٹ نے کہا ہے کہ باغیوں نے آئینی پاپ کیا ہے۔ستائیس مارچ کو ریاست میں لگائے گئے صدر راج کے بعد سے ہی ۔بی جے پی اور کانگریس ۔عدالت کے ذریعہ اس معاملے کا حل تلاش کر رہی ہیں۔ ہائی کورٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے مرکزی سرکار سے کہا کہ اتراکھنڈ اسمبلی کو معطل کرنے کے صدر جمہوریہ کے فیصلے کی معقولیت عدالتی ریویوکا موضوع ہے اورصدرجمہوریہ سے بھی غلطی ہوسکتی ہے۔واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی اتراکھنڈ کے سیاسی بحران پر نینی تال ہائی کورٹ نے ریاست میں صدر راج پر روک لگا دی تھی۔اور اکتیس مارچ کو ایوان میں وزیر اعلیٰ ہریش راوت کو اکثریت ثابت کرنے کو کہا گیاتھا۔لیکن اکتیس مارچ سے پہلے ہی مرکزی سرکار نے اس معاملے پر کورٹ میں چیلنج کردیا۔اور تب سے ہی اتراکھنڈ کا سیاسی بحران جوں کا توں بنا ہوا ہے۔اور کل ملا کر کہا جا سکتا ہے کہ اتراکھنڈ کا بحران ابھی تھما نہیں ہے۔۔خیر۔اب آئیے ایک نظر اتراکھنڈ کی موجودہ اسمبلی ارکان کی صورتحال پر ڈال لیتے ہیں۔اتراکھنڈ اسمبلی کے کل اکہتر ممبران اسمبلی میں کانگریس کے 36 ممبران اسمبلی تھے جن میں سے نو باغی ہو چکے ہیں۔ بی جے پی کے 28 ممبران اسمبلی ہیں جن میں سے ایک معطل ہے۔ بی ایس پی کے دو، آزاد امیدوار تین اور ایک رکن اسمبلی اتراکھنڈ کرانتی پارٹی کا ہے۔اب دیکھنا یہ دلچسپ ہوگا کہ ،اتراکھنڈ کی سیاست کا رخ کیا ہوگا؟
Wednesday, 20 April 2016
صدر جمہوریہ سے بھی غلطی ہوسکتی ہے۔ہائی کورٹ
Uttarakhand political crisis : President can be wrong,Uttarakhand HC
اتراکھنڈ کا سیاسی بحران تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ستائیس مارچ کو ریاست میں لگائے گئے صدر راج کے بعد سے ہی ۔بی جے پی اور کانگریس ۔عدالت کے ذریعہ اس معاملے کا حل تلاش کر رہی ہیں۔ ہائی کورٹ نے تبصرہ کرتے ہوئے مرکزی سرکار سے کہا کہ اتراکھنڈ اسمبلی کو معطل کرنے کے صدر جمہوریہ کے فیصلے کی معقولیت عدالتی ریویوکا موضوع ہے اورصدرجمہوریہ سے بھی غلطی ہوسکتی ہے۔واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی اتراکھنڈ کے سیاسی بحران پر نینی تال ہائی کورٹ نے ریاست میں صدر راج پر روک لگا دی تھی۔اور اکتیس مارچ کو ایوان میں وزیر اعلیٰ ہریش راوت کو اکثریت ثابت کرنے کو کہا گیاتھا۔لیکن اکتیس مارچ سے پہلے ہی مرکزی سرکار نے اس معاملے پر کورٹ میں چیلنج کردیا۔اور تب سے ہی اتراکھنڈ کا سیاسی بحران جوں کا توں بنا ہوا ہے۔اور کل ملا کر کہا جا سکتا ہے کہ اتراکھنڈ کا بحران ابھی تھما نہیں ہے۔۔خیر۔اب آئیے ایک نظر اتراکھنڈ کی موجودہ اسمبلی ارکان کی صورتحال پر ڈال لیتے ہیں۔اتراکھنڈ اسمبلی کے کل 70 ممبران اسمبلی میں کانگریس کے 36 ممبران اسمبلی تھے جن میں سے نو باغی ہو چکے ہیں۔ بی جے پی کے 28 ممبران اسمبلی ہیں جن میں سے ایک معطل ہے۔ بی ایس پی کے دو، آزاد امیدوار تین اور ایک رکن اسمبلی اتراکھنڈ کرانتی پارٹی کا ہے۔اب دیکھنا یہ دلچسپ ہوگا کہ ،اتراکھنڈ کی سیاست کا رخ کیا ہوگا؟
Subscribe to:
Posts (Atom)